’اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تسلی‘

وزیراعظم گیلانی  کا قوم سے خطاب
Image caption وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا قوم سے ’با جماعت‘ خطاب

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے قوم سے غیرمعمولی خطاب نے بظاہر اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تسلی کر دی ہے۔

ججوں نے پیر کی سماعت میں وزیر اعظم سے مزید کسی وضاحت کا تقاضہ نہ کر کے ان کی بظاہر تردید کو تسلیم کرلیا ہے۔

پاکستانی کی سیاسی تاریخ میں وزیر اعظم کی اس قسم کی ’باجماعت‘ تقریر کی نظیر نہیں ملتی۔ وزیر اعظم کو اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سردار اسلم ریئسانی، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان، وزیر اعلٰی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کے علاوہ پنجاب سے سینئر وزیر راجہ ریاض اور سندھ سے پیر مظہرالحق کو اپنے ساتھ بٹھانا پڑا۔

تاہم اس اہم خطاب سے چند گھنٹے قبل وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے ایک عوامی جلسہ عام میں واضح کر دیا تھا کہ وزیراعظم کے اس خطاب میں جو شریک ہوا وہ ساتھ تصور ہوگا ’جو رہ گیا سو رہ گیا۔‘

Image caption وزیر اعظم نےاپنی تقریر میں جہاں فوج کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کی وہیں عدلیہ سے بھی دوستی کا ہاتھ بڑھایا

سرکاری وضاحت کچھ بھی ہو، اس تشریح کے اعتبار سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی عدم شمولیت کو تو یقیناً عام آدمی عدلیہ سے ٹکراؤ پر اختلاف رائے ہی وجہ سمجھے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ تو شاید کراچی میں ضمنی انتخاب کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے ہوں گے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان کی حلیف جعمیت علماء اسلام کی نمائندگی نہ ہونے سے لگا کہ شاید ان کے اس مسئلے پر بھی ’تحفظات‘ موجود ہیں۔

ان کمزوریوں کے باوجود وزیر اعظم یہ کہنے پر قادر ہوئے کہ وہ یعنی پیپلز پارٹی اکیلی نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کو کہنے کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن اس باجماعت خطاب سے واضح تھا کہ وہ اپنے سیاسی اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور کسی کو شک نہیں کہ یہ ایک ایسے موقع پر ہوئی جب عدلیہ اور مقننہ کے ستون دباؤ کی وجہ سے ٹکرانے لگے تھے۔

حکومت نے وزیر اعظم کی تردید کو ہی کافی سمجھا اور دوسرے دن عدالت میں کوئی تحریری وضاحت جمع کرانے سے انکار کیا لیکن دو دن کے تجسس کے بعد پوری قوم کے سامنے ان کی عدالت میں اپنا مقدمہ تفصیلی طور پر پیش کر دیا۔ اس عوامی عدالت کی افادیت ثابت ہوئی یا نہیں لیکن اعلیٰ عدلیہ تک ان کا پیغام صاف صاف پہنچ گیا۔ عدالت کا اب کہنا کہ نوٹیفیکشن واپس لینے کی افواہ کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں۔

پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ کسی بھی قضیے کے خاتمے کے لیے فوری اقدام کی بجائے حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد آرام سے فیصلہ کرتی ہے۔ اس کی واضح مثال معزول ججوں کی بحالی میں تاخیر ہے۔ اب اگر حکومت کی جانب سے عدالت کو سماعت کے پہلے دن ایک آدھ اور جواب جمع کروا دیتی تو شاید زیادہ بات نہ بڑھتی۔ لیکن اس روز وزیر اعظم کی جانب سے وضاحت نہ جمع کرانے سے یہ تاثر ملتا رہا کہ شاید دال میں کچھ کالا ہے۔

پاکستان کی بھونچال سے بھری سیاست میں تردید کی اہمیت کسے نہیں معلوم۔ ماضی میں کتنے ایسے انکار ہیں جو آگے چل کر حقیقیت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ’ہماری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں‘جیسے بیان کے فوراً بعد فوجی مداخلتیں کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پھر عدالت عظمیٰ شاید وضاحت سے زیادہ یقین دہانی کی متلاشی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ حکومت لکھ کر دے کہ اس کا نوٹیفیکشن واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں۔

پاکستان میں جمہوری اور قدرے جمہوری حکومتوں کا المیہ رہا ہے کہ جب ملک میں جمہوری حکومت ہوتی ہے تو عدلیہ بھی متحرک ہوجاتی ہے، میڈیا بے قابو ہو جاتا ہے اور فوج تو فوج ہے کچھ نہ بھی کرے تب بھی اس کا خوف ہی کافی رہتا ہے۔ آج کل کی حکومت بھی تقریباً اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہے۔ وزیر اعظم نے اسی لیے اپنی تقریر میں جہاں فوج کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کی وہیں عدلیہ کے لیے بھی دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔

ایک مضبوط فوج اور متحرک عدلیہ میں ’سینڈوچ‘ بنی سیاسی حکومت کے پاس شاید اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں۔ اگر کہیں وہ آنکھیں دکھانے کی کوشش کرتی ہے تو ان دو اداروں کو تھوڑا بہت برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں