کراچی: فائرنگ سے سترہ افراد ہلاک

فائل فوٹو، کراچی میں ہلاکتیں
Image caption اس واقعے سے پہلے منگل کو کراچی میں تشدد کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوئے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے شیر شاہ کی کباڑی مارکیٹ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے مزید واقعات میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کراچی میں چوبیس گھنٹے کے دوران تشدد کے واقعات میں بائیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ نے شیرشاہ مارکیٹ پر حملے کے خلاف کل یوم سوگ منانے کااعلان کیا ہے جبکہ کراچی ٹرانسپورٹ اور تاجر اتحاد نے کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی کے سول ہسپتال میں موجود نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں کباڑی مارکیٹ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے بارہ افراد کی لاشوں اور بارہ زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں میں دو سگے بھائیوں زبیر اور عمیر اور ان کے والد کی لاشیں سول ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔

سول ہسپتال میں آنے والے اس کباڑی مارکیٹ کے واقعے کے عینی شاہدین کے مطابق منگل کی شام کو کباڑی مارکیٹ میں پانچ سے چھ مسلح افراد نے جدید ہتھیاروں سے ہوائی فائرنگ شروع کی دی۔ اس دوران لوگوں نے بھاگ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینا شروع کی ہی تھی کہ مسلح افراد نے لوگوں پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا یہ سلسلہ پندرہ سے بیس منٹ تک جاری رہا۔

ایک دوسرے عینی شاہد نے بتایا کہ فائرنگ شروع ہوتے ہی محفوظ جگہ پر چھپ گئے اور اس دوران اپنا موبائل فون بھی بند کر دیا تاکہ فون کال آنے کی صورت میں مسلح افراد انھیں ڈھونڈ نہ لیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کباڑی مارکیٹ کے واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ شروع ہو گئی۔

فائرنگ کے ان واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے تین ایم اے جناح روڑ پر ریڈیو پاکستان کے قریب اور دو گلستان جوہر میں ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق اس واقعے سے پہلے منگل کو شہر کے مخلتف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو اکبر مارکیٹ، لانڈھی، ملیر اور لانچھوڑ لائن میں ایک ایک ہلاکت ہوئی۔

دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ نے شیرشاہ مارکیٹ پر حملے کے خلاف کل یوم سوگ منانے کااعلان کیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا کہ ایسا لگتاہے کہ کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اورشہر کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کراچی کے شہریوں کوجان ومال کاتحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ الطاف حسین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے جذبات قابو میں رکھیں اور ہرقیمت پر پرامن رہیں۔

دوسری جانب کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے ٹرانپسپورٹ اور تاجر اتحاد نے کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں