سرکاری افسر سے صدرِ مملکت تک

فاروق احمد خان لغاری

پاکستان کے سابق صدر اور مسلم لیگ قاف کے رہنما سردار فاروق احمد خان لغاری طویل علالت کے بعد منگل کے روز انتقال کرگئے ہیں۔

سردار فاروق لغاری عارضہ قلب میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کی عمر ستر برس تھی۔

سابق صدر کا شمار پاکستان کے بڑے سیاست دانوں میں ہوتا تھا۔ وہ نومبر انیس سو ترانوے سے دسمبر انیس سو ستانوے تک چار برس کے لیے صدر مملکت کے عہدے پرفائز رہے۔ وہ پنجاب اسمبلی کے علاوہ کئی مرتبہ رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔

سردار فاروق احمد خان مئی انیس سو چالیس کو جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے چوٹی زیریں کے ایک زمیندار اور سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کرنے کے بعد اعلیْٰ تعلیم کے بیرون ملک گئے۔

وطن واپسی کے بعد وہ سول سروس میں شامل ہوگئے اور مشرقی پاکستان میں فرائض انجام دیے۔ فاروق لغاری نے اپنے والد کی وفات کے بعد سول سروس سے علیحدگی اختیار کرلی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اس طرح انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔

اس کے علاوہ فاروق لغاری نے1970 میں بنکاک اور پھر 1974میں تہران میں ہونے والے ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی شوٹنگ مقابلوں میں کی تھی اور اس کے پسٹل ایونٹ میں حصہ لیا تھا۔

اہم پارٹی عہدوں کے ساتھ ساتھ سردار فاروق احمد خان لغاری پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران وزیر کے عہدے بھی فائز رہے۔ وہ ایک زمانے تک سابق وزیر اعظم بیظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ایک تھے اور اسی لیے بیظیر بھٹو نے انہیں نومبر ترانوے میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں پیپلزپارٹی کی طرف سے امید وار نامزد کیا تھا۔

ان کا پارٹی کے سرکردہ رہمناؤں میں شمار ہوتا تھا اور وہ پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری خزانہ اور مرکزی سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ فاروق لغاری ذوالفقار علی بھٹو کے دورہ حکومت میں سینیٹ کے رکن بنے اور پھر وفاقی کابینہ میں پیدا وار کی وزارت کا قلم دان سنبھالا۔

انیس سو اٹھاسی میں فاروق لغاری بیک وقت قومی اور پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وہ اس وقت پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا ایک مضبوط امیدوار سمجھے جاتے تھے۔ لیکن پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم نہ ہوسکی جس کی وجہ انہوں نے صوبائی نشست چھوڑی دی اور وفاقی کابینہ میں بجلی کے وزیر بنے۔

انیس سو نوے میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے طور پر قومی اسمبلی میں اپنا کردار ادا کیا اور بعد میں مختصر عرصے کے لیے بلخ شیر مزاری کی نگران حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہے۔

انیس سو ترانوے میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو نے انہیں اپنی کابینہ میں وزیر خارجہ بنایا اور صدر پاکستان بننے تک وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔

سردار فاروق احمد خان لغاری نےصدارتی انتخابات میں اپنے مدمقابل حزب اختلاف کے امیدوار سینیٹر وسیم سجاد کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے۔ بعدازاں سردار فاروق لغاری اور بینظیر بھٹو کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور نومبر چھیانوے میں انھوں نے اٹھاون ٹو بی کے تحت بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی اور اسمبلیاں تحلیل کردیں۔

فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی جگہ اپنے ایک قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کے رہنما ملک معراج خالد کو ملک کا نگران وزیر اعظم بنادیا۔ اسی دوران انھوں نے احتساب کے لیے احتساب آرڈیننس کے نام سے ایک نیا قانون متعارف کرایا تھا جو بعد میں نواز شریف کے دور میں احتساب ایکٹ کہلایا اور سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اس قانون کو نیب یعنی قومی احتساب بیورو کا نام دیا۔

فاروق لغاری نے احتساب آرڈننیس میں ترمیم کا ارادہ کیا تو اس وقت نگران وزیر قانون فخرالدین جی ابراہیم نے اس کی مخالت کی اور وزیر قانون کا عہدہ چھوڑ دیا۔ فاروق لغاری نے اسی عرصے میں قومی سلامتی کونسل کی طرز پر ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک ادارہ قائم کیا لیکن آرڈیننس کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد یہ ادارہ ازخود ہی تحلیل ہوگیا۔

انیس سو ستانوے کے انتخابات میں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ نواز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ نواز شریف نے نے صدر کے اسمبلی توڑنے اور فوجی سربراہاں کی تقرری کا اختیار واپس لینے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے آئین میں ترمیم کی اور اس ترمیم کی منظوری کے لیے اس وقت حزب اختلاف کی قائد بینظیر بھٹو نے بھی ترمیم کی منظوری کے مکمل اور بھرپور حمایت کی۔

فاروق لغاری کو انیس سو ستانوے میں نواز شریف حکومت اور جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان تنازعے کی وجہ سے صدر مملکت کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

سردار فاروق احمد خان لغاری نے صدر پاکستان کو منصب چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد اپنی نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ لاہور میں قائم کی جانے والی اس نئی جماعت کا نام ملت پارٹی رکھا گیا اور اس میں پیپلز پارٹی کے ناراض رہنماؤں اور کارکنوں نے شمولیت اختیار کی۔

انھوں نے جنرل مشرف کے دور میں اپنی جماعت ملت پارٹی کو اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ قاف میں ضم کردیا۔ سردار فاروق لغاری نے دو ہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

سردار فاروق احمد خان لغاری کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے چوٹی زیریں میں ادا کی جائے گی۔

اسی بارے میں