کراچی میں فوج طلب کی جائے؟

Image caption کراچی میں ٹارگٹ کیلنگ معمول بن چکی ہے

کراچی میں جاری پرتشدد واقعات کی روک تھام میں بظاہر پولیس اور رینجرز کی بے بسی کے بعد فوج طلب کرنے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ رینجرز کو بااختیار بنایا جائے۔

موجودہ حکومت نے پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لیے کبھی رینجرز کو بغیر وارنٹ چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات دیے تو کبھی سیاسی جماعتوں کو بٹھاکر ضابطہ اخلاق تشکیل دیا اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کی، اسی طرح شہر کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کے اعلانات ہوئے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔

تشدد کے واقعات کے حقائق سامنے لانے کے لیے دو مرتبہ عدالتی ٹربیونل تشکیل دیے گئے مگر دونوں کارروائی شروع کرنے سے قبل ہی ختم ہوگئے۔

حکومتی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے نہ آنے کے بعد اب بعض سیاست دان اور تاجر شہر کا حل فوجی آپریشن کو سمجھتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید کا کہنا ہے کہ کراچی میں سوات طرز کے آپریشن کی ضرورت ہے، بقول ان کے کراچی اسلحہ کا ڈھیر بنا ہوا ہے، شہر کو اسلحہ سے پاک کیا جائے، جرائم پیشہ افراد، قومیتوں اور جماعتوں میں بھرے پڑے ہیں۔ جن کے لیے ایک بہترین آپریشن کی ضرورت ہے۔

کراچی کے تاجر بھی امن امان کی خرابی کے باعث پریشانی کا شکار ہیں، چیمبر آف کامرس کے سابق صدر مجید عزیز کا کہنا ہے کہ رینجرز کئی سال کی موجودگی کے باوجود امن امان بحال نہیں کرسکی ہے، اس وقت فوج کی فوری آمد ضروری ہے۔

بقول ان کہ پاکستان کی معشیت کا زیادہ تر دارو مدار کراچی پر ہے، اگر معشیت اور ملک کے امیج کو بہتر رکھنا ہے تو کراچی میں امن و امان لازمی ہے اس لیے وہ اس سوچ کی حمایت کرتے ہیں کہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔

جماعت اسلامی کا موقف ان سے مختلف ہے۔ تنظیم کے ترجمان سرفرار احمد کا کہنا ہے کہ کراچی میں جو ٹارگٹ کلنگز ہو رہی ہے ایسا نہیں ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے ان سے لاعلم ہیں، شہر میں جتنا اسلحہ موجود ہے اس سے تمام ایجنسیاں باخبر ہیں۔

’اس سے پہلے بھی فوج نے آ کر آپریشن کیا، جس کا کوئی نتجہ نہیں نکلا ہماری تو رائے ہے کہ ایسے لوگوں کو پروان ہی ہماری قومی سلامتی کے اداروں نے چڑھایا ہے اگر سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو پولیس اور رینجرز ان پر قابو پا سکتی ہے‘۔

دفاعی امور کے ماہر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ اگر کراچی میں فوج طلب کی گئی تو اس کے سویلین حکومت کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ ان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ جو مشکل کام ہو وہ فوج کو سونپا جائے اس طرح سویلین اپنی حکومت اور کمزور کرتے چلے جا رہے ہیں۔

جنرل طلعت مسعود کے مطابق اگر فوج کو کراچی میں بھی ذمہ داری سونپی جائے تو کچھ عرصے کے لیے تو یہ سود مند ثابت ہوگا مگر وہ نہیں سمجھتے کہ یہ دیرینہ حل ہے۔ اس مسئلے کا سیاسی حل تو سکتا ہے۔ مگر ان کا خیال تھا کہ اگر اسی طریقے سے حالات خراب ہوتے رہے تو پھر ظاہر ہے کہ فوج کو بلانا پڑے گا۔

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ لوگوں کی اس بارے میں مختلف رائے ہے وفاقی وزیر رحمان ملک نے پچھلے دنوں کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضرورت محسوس ہوئی تو فوج کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ادارے بھی حکومت کا ہی حصہ ہیں ۔

Image caption کراچی میں ٹارگٹ کیلنگ کے واقعات کے بعد فوج طلب کے جانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے

گزشتہ روز کے واقعات کے بعد کراچی سے تعلق رکھنے والے وزیر مملکت نبیل گبول نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کراچی کو فوج کے حوالے کر دیا جائے۔ مگر بدھ کی صبح وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا کہ یہ نبیل گبول کی ذاتی رائے ہے کہ کراچی میں فوج کو طلب نہیں کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ انیس سو بانوے میں میاں نواز شریف کی حکومت میں بھی کراچی میں فوج طلب کی گئی تھی اس آپریشن کے خلاف سب سے زیادہ ایم کیو ایم نے شکایت کی تھیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ رینجرز کو مزید بااختیار کیا جائے تاکہ وہ سرجیکل آپریشن کرسکے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ گینگ وار کے عناصر پولیس میں بھرتی کیے گئے ہیں اس لیے پولیس کارروائی نہیں کرسکے گی۔

اسی بارے میں