آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 اکتوبر 2010 ,‭ 18:25 GMT 23:25 PST

کراچی:ہلاکتیں پینتیس، نظامِ زندگی معطل

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پینتیس افراد کی ہلاکت کے بعد بدھ کو نظامِ زندگی معطل رہا ہے۔

ادھر وزیراعظم پاکستان نے کراچی میں فوج کی تعیناتی کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت شہر کے حالات پر قابو پا لے گی۔

کلِک کراچی میں سوگ اور ہڑتال: تصاویر

کراچی میں ہلاکتوں کے تازہ واقعات منگل کی صبح سے شروع ہوئے تھے اور شام تک پانچ افراد کو ہلاک کیا گیا تھا تاہم پرتشدد واقعات میں اس وقت تیزی آئی جب منگل کی رات شیرشاہ کی کباڑی مارکیٹ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔

اس واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا اور بدھ کی صبح تک مزید اٹھارہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

وزیراعلٰی سندھ کے مشیر وقار مہدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران پینتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ وزیراعلٰی سندھ کی مشیر اطلاعات شرمیلا فاروقی نے بتایا ہے کہ سولہ اکتوبر کو ضمنی انتخاب کے موقع پر شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کے دوران گزشتہ رات تک ٹارگٹ کلنگ میں چونسٹھ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ پچپن شہری زخمی ہوئے ہیں۔

فائل فوٹو، کراچی میں ہلاکتیں

ان کے مطابق پولیس نے اب تک چوراسی ملزمان کو مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے حالات پر صوبائی حکومت قابو پا لے گی اور فوج طلب نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ’ کراچی میں فوج طلب کرنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول کا بیان ان کی ذاتی رائے تھی نہ کہ پارٹی لائن‘۔

خیال رہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاکتوں کے بعد منگل کو پی پی پی کے رکنِ قومی اسمبلی نبیل گبول نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کراچی میں فوج تعینات کر دی جائے۔

کراچی میں فوج طلب کرنے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول کا بیان ان کی ذاتی رائے تھی نہ کہ پارٹی لائن۔

وزیراعظم گیلانی

دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کراچی کی صورتحال پر وفاقی وزیرِ اخلہ رحمان ملک اور سندھ کے وزیرِ داخلہ ذوالفقار مرزا سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں رینجرز اور پولیس کے ذریعے ہر قیمت پر ٹارگٹ کلنگ اور بد امنی کو روکا جائے گا۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کو بتایا کہ اجلاس میں صدر نے ہدایت کی ہے کہ ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی پھیلانے میں جو بھی ملوث ہیں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے کیوں نہ ہو۔

کراچی میں شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں فائرنگ اور بارہ افراد کی ہلاکت کے خلاف بدھ کو تاجروں کی طرف سے احتجاج ہڑتال کی گئی ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے یومِ سوگ منایا جارہا ہے۔

گزشتہ چار روز سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے باعث شہر کی پچاس مارکیٹیں بند ہیں، اسلحہ کے زور پر مارکیٹوں کو بند کرایا جا رہا ہے اور ان پر فائرنگ کی جا رہی ہے۔

صدیق میمن

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس موقع پر کراچی میں نظامِ زندگی معطل ہے، شہر کے تجارتی مراکز اور مارکیٹیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث لوگوں کو آمدورفت میں دشواری کا سامنا ہے۔

ہڑتال اور سوگ کے اعلان کے بعد کراچی یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی نے اپنے امتحانات ملتوی کر دیے تھے اور نجی سکولوں کے مالکان کی تنظیم پرائیوٹ اسکول مینجمنٹ نے سکول بند رکھنے کا اعلان کیا تھا مگر بعد میں محکمہ تعلیم کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا کہ تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے مگر شہریوں نے اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجا۔

گزشتہ روز فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد میں سے متعدد کی نمازِ جنازہ بدھ کو شہر کے مختلف علاقوں میں ادا کی گئی جس میں مرنے والوں کے عزیزواقارب شریک ہوئے۔

شیر شاہ فائرنگ

مسلح افراد نے کباڑی مارکیٹ میں دکانوں پر موجود افراد کو نشانہ بنایا

کباڑی مارکیٹ کے واقعے کے عینی شاہدین کے مطابق منگل کی شام کو کباڑی مارکیٹ میں پانچ سے چھ مسلح افراد نے جدید ہتھیاروں سے ہوائی فائرنگ شروع کی۔ اس دوران لوگوں نے بھاگ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینا شروع کی ہی تھی کہ مسلح افراد نے لوگوں پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا یہ سلسلہ پندرہ سے بیس منٹ تک جاری رہا۔ ایک دوسرے عینی شاہد نے بتایا کہ وہ فائرنگ شروع ہوتے ہی محفوظ جگہ پر چھپ گئے اور اس دوران اپنا موبائل فون بھی بند کر دیا تاکہ فون کال آنے کی صورت میں مسلح افراد انھیں ڈھونڈ نہ لیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال میں کباڑی مارکیٹ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے بارہ افراد کی لاشوں اور بارہ زخمیوں کو لایا گیا جن میں دو سگے بھائی زبیر اور عمیر اور ان کے والد کی لاشیں بھی شامل ہیں۔

کباڑی مارکیٹ میں فائرنگ کے واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں ایم اے جناح روڈ پر ریڈیو پاکستان کے قریب تین اور گلستانِ جوہر میں دو افراد مارے گئے۔

اس سے پہلے منگل کے دن میں اکبر مارکیٹ میں دو جبکہ لانڈھی، ملیر اور رنچھوڑ لائن میں ایک ایک شخص کو ہلاک کیا گیا تھا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔