پاک امریکہ تعلقات کے نشیب و فراز

ہلیری کلنٹن اور شاہ محمود قریشی
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی لڑائی میں پاکستان کو اسکا ساتھ دینا ہے

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات نے تقریباً ساٹھ سالوں میں کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ایک نظران رشتوں کو بدلنے ، بہتر بنانے یا نیا موڑ دینے والی اہم تاریخوں پر۔

انیس سو چون

امریکہ اور پاکستان نے باہمی دفاعی سمجھوتے کے لیے مذاکرات کیے کیونکہ امریکہ کو سوویت یونین اور پاکستان کو بھارت سے خطرہ تھا۔

انیس سو پچپن

پاکستان نے دو مشرقی دفاعی تنظیموں ساؤتھ ایسٹ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن اور سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی۔ انیس سو تریپن اور اکسٹھ کے درمیان پاکستان نے دو ارب ڈالر کی امریکی امداد حاصل کی اور اس کا ایک چوتھائی فوج کو ملا۔

انیس سو ساٹھ

پاکستان نے امریکہ کے جاسوسی طیاروں کو پشاور میں اپنا ائر بیس استعمال کرنے کی اجازت دی تاکہ وہ سوویت یونین پر نظر رکھ سکے۔ سوویت یونین نے امریکہ کا ایک جاسوسی طیارہ مار گرایا جس کے بعد پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

انیس سو باسٹھ

بھارت اور چین کی جنگ کے دوران امریکہ کی بھارت کو معاشی اور فوجی امداد دینے کی پیشکش کی۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اس امداد کی پییشکش سے پہلے پاکستان کو اعتماد میں لینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایسا نہ ہونے پر پاکستان کے صدر ایوب خان نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

انیس سو پینسٹھ

امریکہ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کی فوجی امداد معطل کر دی جس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے۔

انیس سو ستر

پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان رابطے قائم کرنے کےلیے پردے کے پیچھے اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں امریکہ کے وزیر خارجہ ہینری کیسنجر نے انیس سو اکہتر میں چین کا خفیہ دورہ کیا اور بعد میں صدر رچرڈ نکسن بھی وہاں پہنچے۔

انیس سو اکہتر

پاکستان اور بھارت کے درمیان تیسری جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ اس وقت بھی امریکہ نے فوجی امداد معطل کر دی تھی۔

انیس سو چوہتر

بھارت نے زیر زمین ایٹمی تجربہ کیا اور پاکستان نے اس کا جواب دینے کےلیے کوشش شروع کر دی۔

انیس سو پچہتر

امریکہ نے پاکستان کو محدود فوجی امداد بحال کردی۔

انیس سو ستتر

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق نے وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔

انیس سو اناسی

امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے یورینیم کی افزودگی پر پاکستان کےلیے فوجی امداد میں کٹوتی کی۔

امریکی فوج کی طرف سے سعودی عرب کے شہر مکہ پر حملے کی افواہ کے بعد کچھ طلبہ نے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کو آگ لگا دی جس میں دو امریکی اور ایک پاکستانی کی موت ہو گئی۔

انیس سو اکاسی

رونالڈ ریگن انتظامیہ نے تین ارب دو کروڑ ڈالر کی پانچ سالہ معاشی اور فوجی امداد پر پاکستان نے مذاکرات کیے۔

انیس سو پچاسی

بین الاقوامی امدادی ایکٹ میں پریسلر ترمیم کو شامل کیا گیا۔ اس میں صدر کےلیے ضروری تھا کہ وہ کانگریس سے اس کی توثیق کروائیں کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔

انیس سو اٹھاسی

سوویت یونین کا افغانستان نے انخلاء ہو گیا۔ امریکہ نے پاکستان کی ایٹمی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنی شروع کی۔

انیس سو نوے

صدر جارج بش نے پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان کی فوجی اور معاشی امداد معطل کر دی۔ واشنگٹن نے اکہتر ایف سولا طیارے دینے سے بھی انکار کر دیا۔

انیس سو اٹھانوے

پہلے بھارت نے ایٹمی تجربہ کیا اور بعد میں پاکستان نے بھی اس کے جواب میں ایٹمی تجربہ کیا اور دونوں ایٹمی ملک بن گئے۔ امریکہ نے پاکستان پر پابندی لگاتے ہوئے فوجی اور معاشی امداد بند کر دی۔

امریکہ نے اکہتر ایف سولا طیاروں کے بدلے پاکستان کو تقربیاً تین سو پچیس ملین ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ واشنگٹن نے گندم اور سویابین کے مد میں پاکستان کو ایک سو چالیس ملین ڈالر بھی ادا کیے۔

انیس سو ننانوے

واشنگٹن میں صدر بل کلنٹن سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کارگل سے فوج کی واپسی پر رضامند ہوئے جس سے بھارت کے ساتھ ایٹمی جنگ کا خطرہ ہو گیا تھا۔

فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی منتخب حکومت گرا کر قبضہ کر لیا۔

دو ہزار ایک

نیو یارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پرویز مشرف امریکی صدر کے اہم اتحادی بن گئے۔ پاکستان نے سرکاری طور پر طالبان کی حمایت ختم کردی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ دو ہزار دو سے دو ہزار آٹھ کے درمیان امریکہ نے پاکستان کو بارہ بلین ڈالر کی امداد دی جس کا تین چوتھائی فوجی امداد تھی۔

دو ہزار چار

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی ٹیکنالوجی شمالی کوریا، ایران اور لیبیا کو دینے کا اعتراف کیا اور امریکہ کے دباؤ میں ان کو نظربند کیا گیا۔

دو ہزار پانچ

امریکہ نے کشمیر کے زلزلے کےلیے پاکستان کو پانچ سو دس ملین ڈالر کی امداد دی۔

دو ہزار سات

جنرل مشرف نے آرمی چیف کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور انتخابات کرائے۔ انتخابی مہم کے دوران سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل ہو گئیں۔

دو ہزار آٹھ

انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری صدر بن گئے۔

دو ہزار نو

نئے منتخب صدر براک اوباما نے رچرڈ ہالبروک کو افغانستان اور پاکستان کےلیے خاص نمائندہ مقرر کیا۔ امریکہ نے اگلے پانچ سالوں میں پاکستان کےلیے سات بلین ڈالر کی امداد کی منظوری دی۔

دو ہزار دس

نیویارک میں بم دھماکہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کو گرفتار کیا۔ طالبان نے حملے کے منصوبہ بندی کی ذمہ داری قبول کی۔

اسی بارے میں