آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 اکتوبر 2010 ,‭ 14:31 GMT 19:31 PST

’پارلیمان ججز تقرری طریقۂ کار پر نظرِ ثانی کرے‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی شق ایک سو پچھہتر اے کو نظرِ ثانی کے لیے واپس پارلیمان کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ عدالت میں چیلنج کی گئی باقی شقوں کے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔

یہ بات سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی چند شقوں کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر اپنا عبوری فیصلہ سناتے ہوئے کہی ہے۔

کلِک اٹھارہویں ترمیم کی اہم تجاویز

پاکستانی پارلیمان نے آٹھ اپریل سنہ 2010 کو آٹھویں ترمیم کی منظوری دی تھی اور اس کے سولہ دن بعد ہی اس کی کچھ شقوں کو عدالتِ عظمٰی میں چیلینج کر دیا گیا تھا جن میں ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کی شق بھی شامل تھی۔

ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کی یہ شق عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ نے چوبیس مئی کو آئینی درخواستوں کی سماعت شروع کی تھی اور چار ماہ کی سماعت کے بعد تیس ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ججوں کی بھرتی کے سوال پر چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن کی سفارشات اگر پارلیمانی کمیشن مسترد کرتا ہے تو انہیں اس کی ٹھوس تحریری وجوہات وزیراعظم کو فراہم کرنی ہوں گی اور وزیراعظم وہ اختلافی وجوہات چیف جسٹس کو فراہم کریں گے جس پر نظر ثانی کا اختیار سپریم کورٹ کو ہوگا۔

جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور پارلیمان شق ایک سو پچھہتر اے پر سامنے آنے والے تحفظات کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ عدالت نے کہا کہ ججوں کی تقرری میں چیف جسٹس کی مشاورت کو اولین اہمیت حاصل ہے۔

عدالت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ نئے ججوں کی تعیناتی اٹھاوہویں ترمیم میں دی گئی شق 175 اے کے تحت ہی ہوگی تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ کمیشن کا سربراہ ہونے کے ناتے اس کا اجلاس چیف جسٹس بلائے اور وہی سپریم کورٹ میں تعینات کیے جانے والے ججوں کے نام تجویز کرے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے لیے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا تاہم اس کا ریکارڈ رکھا جائے گا اور اس کی ایک کاپی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو بھی بھجوائی جائے گی اور اس کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم کو دی جائیں گی جو اسے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ یعنی چیف جسٹس آف پاکستان کو بجھوائیں گے۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خلاف بیس سے زائد درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں اس ترمیم کی چھبیس شقوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ان میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خوا رکھنے اور سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو لامحدود اختیارات دینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق ججوں کی بھرتی کے سوال پر چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن کی سفارشات اگر پارلیمانی کمیشن مسترد کرتا ہے تو انہیں اس کی ٹھوس تحریری وجوہات وزیراعظم کو فراہم کرنی ہوں گی اور وزیراعظم وہ اختلافی وجوہات چیف جسٹس کو فراہم کریں گے جس پر نظر ثانی کا اختیار سپریم کورٹ کو ہوگا۔

سینئر قانونی ماہر اور پارلیمان کی اصلاحات کی کمیٹی کے رکن سینٹر ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سے اصلاحات کی تیاری کے وقت رائے نہیں لی جا سکی تھی جو اب مل گئی ہے لہذا انہیں امید ہے کہ پارلیمان اس کا احترام کرے گی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے پارلیمان یہ سفارشات منظور کر لے گی۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ جج جو پہلے سے تعینات ہیں یا انہیں عبوری ریلیف دیا گیا ہے ان پر یہ طریقۂ کار لاگو نہیں ہوگا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تیس اگست کو چاروں صوبائی ہائی کورٹس میں تعینات بتیس ایڈہاک ججوں کو عبوری ریلیف دے کر اُن کی مدتِ ملازمت میں اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں سے متعلق عدالت عظمٰی کے فیصلے تک توسیع کر دی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے درخواست گُزاروں کی طرف سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ قوم ایک نازک دور سے گُزر رہی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو اٹھارہویں ائینی ترمیم میں جن شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا اُن کا فیصلہ سُنا دیتے یا پھر انہیں پارلیمنٹ کو بھجوا دیتے چنانچہ عدالت نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

دو ہی راستے تھے یا تو اٹھارہویں ائینی ترمیم میں جن شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا اُن کا فیصلہ سُنا دیتے یا پھر انہیں پارلیمنٹ کو بھجوا دیتے چنانچہ عدالت نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

سپریم کورٹ

عدالت نے جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد دو سے بڑھا کر چار کرنے اور ججوں کی تعیناتی کے لیے بنائے جانے والی پارلیمانی کمیٹی کو ویٹو پاور کا اختیار دینے کی تجویز دی ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت آئندہ برس جنوری کے آخری ہفتے تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اٹھاوہویں آئینی ترمیم کے خلاف بیس سے زائد درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں اس ترمیم کی چھبیس شقوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ان میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خوا رکھنے اور سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو لامحدود اختیارات دینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔