سیلاب متاثرین: ستر لاکھ خیموں کے بغیر

سیلاب متاثرین
Image caption موسم سرما کی آمد نے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے رابطہ کاری کے ادارے اوچا نے کہا ہے کہ ملک میں ستر لاکھ کے لگ بھگ سیلاب متاثرین ہیں جنہیں فوری طور پر خیموں کی ضرورت ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ امداد کے لیے اس کی بین الاقوامی اپیل کا تاحال صرف چھتیس فیصد حصہ وصول ہو سکا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں صوبہ سندھ کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے، جہاں ادارے کے مطابق تاحال دس لاکھ متاثرین، لگ بھگ تین ہزار خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں۔ جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ اور دادو اضلاع کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں سے سیلاب کا پانی نہیں اترا اور وہاں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال ہے کہ صوبہ سندھ کے بیشتر سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب کا پانی خشک ہونے میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق کندھ کوٹ اور شکار پور میں سیلاب کا پانی خشک ہونے کے بعد متاثرین کی واپسی میں تیزی آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود متاثرین کی بڑی تعداد کا رخ امدادی کیمپوں کی طرف ہے کیونکہ وہ اپنے علاقوں میں بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے بارے میں اقوامِ متحدہ نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی فوج پچیس اکتوبر سے اپنی امدادی سرگرمیاں بند کر دے گی جس کے نتیجے میں امدادی سرگرمیوں میں بڑا خلاء پیدا ہو سکتا ہے۔

Image caption تقریباً سینتیس ہزار سیلاب متاثرین نوشہرہ اور چار سدہ کی خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں

بلوچستان کے نصیرآباد، جعفرآباد، کوئٹہ اور جھل مگسی اضلاع میں متاثرین کے درجنوں کیمپ ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں موسمِ سرما کی آمد آمد ہے، اس لیے اقوامِ متحدہ نے وہاں پر خمیوں کی کمی کو تشوشناک قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق تقریباً سینتیس ہزار سیلاب متاثرین نوشہرہ اور چارسدہ کی خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں۔ البتہ صوبہ پنجاب میں متاثرین کی بڑی تعداد اپنے علاقوں میں لوٹ چکی ہے اور اکا دکا خیمہ بستیاں ہی رہ گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا اور پنجاب میں زرعی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے بیج اور کھاد کی تقسیم شروع ہو چکی ہے لیکن سندھ میں خدشہ ہے کہ پانی نہ اترنے کی وجہ سے ربیع کی کاشت میں تاخیر ہو جائے گی۔

موسم کی تبدیلی کی وجہ سے متاثرین میں نمونیا اور سانس کی بیماری کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے بیس ہزار روپے کی امدادی رقم والے وطن کارڈ کی تقسیم کے دوران رشوت خوری اور تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے اوچا کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان بھر میں تقریباً بیس لاکھ مکانات تباہ ہوئے۔ اب بھی ستر لاکھ متاثرین ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے خیمہ یا کوئی ٹھکانہ نہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان کے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے اس کی بین الاقوامی اپیل، صرف چھتیس فیصد تک پوری ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں