کرائےکے بجلی گھر: سماعت چھبیس اکتوبر کو

سپریم کورٹ
Image caption سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا ہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کی ضرورت کیوں پیش آئی

سپریم کورٹ نے بجلی کی قیمیتوں میں اضافے اور کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق وضاحت کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین اور واپڈا کے دیگر حکام کے علاوہ کرائے کے بجلی گھروں کے متعلقہ افراد کو چھبیس اکتوبر کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی فصیل صالح حیات نے جنھوں نے عدالت میں ’کچھ شواہد‘ پیش کرنے کی درخواست دی تھی کہا کہ سنہ دوہزار سات میں دنیا بھر میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا جس کے بعد سے اس میں بتدریج کمی آتی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا اور دیگر حکام نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اس میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے بجلی کے بل عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے نیپرا کے وکیل سے کہا کہ وہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں متعلقہ حکام سے بات کرکے عدالت کو آگاہ کریں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

فیصل صالح حیات نے عدالت کو بتایا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملک بھر میں مصنوعی بجلی کا بحران پیدا کیا گیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے مالکان کون ہیں اور اُنہیں کس نے ٹھیکے دیے اس کی تفصیلات بھی آئندہ سماعت پر عدالت کو بتائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ ملک میں پن بجلی کے منصوبوں میں کیا پیش رفت ہورہی ہے۔

فیصل صالح حیات کا کہنا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں میں جو مشینری استعمال کی جارہی ہے وہ بہت پُرانی ہے اور خود نیپرا کے حکام کا کہنا تھا کہ دس سال سے پُرانی مشینری استعمال نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایشائی ترقیاتی بینک نے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی لیکن موجودہ حکومت میں شامل کچھ افراد نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے اس منصوبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ گُزشتہ حکومت میں بھی کرائے کے دو بجلی گھر لگائے گئے تھے لیکن وہ ناکام رہے۔

اسی بارے میں