پشاور: مسجد میں دھماکہ، تین ہلاک

Image caption پشتہ خرہ پشاور اور قبائلی علاقے باڑہ کا ایک سرحدی علاقہ ہے

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے پشتہ خرہ میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہو گئے ہیں۔

پشتہ خرہ پولیس سٹیشن کے انچارج عابد الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ پشتہ خرہ بالا کی جامع مسجد میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگ جمعہ کی نماز ادا کر کے سنتیں پڑھ رہے تھے کہ اس دوران مسجد کے برآمدے میں پہلے سے نصب بم زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک و زخمی ہونے والے تمام عام شہری بتائے جاتے ہیں جنہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت کی تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ایس ایس پی پشاور اعجاز احمد نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک شخص مسافر کی شکل میں مسجد میں نماز پڑھنے آیا اور وہاں برآمدے میں بم نصب کرکے کسی نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگیا‘۔ ان کے مطابق دھماکے میں ڈیڑھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشتہ خرہ پشاور اور قبائلی علاقے باڑہ کا ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پولیس چوکیوں اور اہلکاروں پر حملے ہوچکے ہیں۔

پشاور میں گزشتہ چند ماہ کی خاموشی کے بعد بظاہر ایک مرتبہ پھر دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ دو تین دن قبل بھی پشاور کے مضافاتی علاقے باڑہ قدیم میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے شہر کے دیہاتی علاقوں میں کئی سرکاری سکولوں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل ہی پشاور کے نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر پشاور میں فوج اور پولیس نے شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کا اغاز کیا تھا جس متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں