’وزیرستان آپریشن، آغاز فوج کی مرضی سے‘

Image caption امریکہ کی ایف پاک پالیسی میں بھی موروثی خامیاں ہیں:گیلانی

وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا اختیار فوج کو دے رکھا ہے جو زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اسے کسی بھی وقت شروع کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

اسلام آباد میں سفارتی امور پر نظر رکھنے والے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی سے قبل ان کی حکومت نے ملک کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا تھا جس کے بعد فوج کو کارروائی کا اختیار دیا گیا تھا۔

ان کے مطابق اسی اختیار کے تحت ان کے بقول فوج شمالی وزیرستان میں بھی جب چاہے حالات کو دیکھتے ہوئے کارروائی شروع کر سکتی ہے۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق قبائلی علاقوں میں جاری ڈرون حملوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے امریکہ کو محض نگرانی کی اجازت دی تھی حملوں کی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بابت امریکیوں کو قائل کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ان حملوں کی وجہ سے مقامی آبادی شدت پسندوں کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں۔ ’ہم ان کو کہہ رہے ہیں کہ یا تو ہمیں ڈرون ٹیکنالوجی منتقل کریں یا پھر قابل اعتماد خفیہ معلومات ہمیں دیں ہم کارروائی کریں گے‘۔

وزیراعظم کی یہ گفتگو پہلے سے طے تھا کہ عالمی تعلقات تک محدود رہے گی۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا امریکہ کی ایف پیک (افغانستان اور پاکستان) پالیسی میں بھی موروثی خامیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں بھارت کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ ’جب ہمیں افغانستان کے ساتھ بریکٹ کیا گیا تو اس پر ہمیں اعتراض تھا۔ ہمیں بھارت کے ساتھ بریکٹ کیا جانا چاہیے تھا‘۔

Image caption شمالی وزیرستان میں پہلے ہی چونتیس ہزار فوجی موجود ہیں

افغانستان میں طالبان کے ساتھ جاری مبینہ مذاکرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ ’ابھی ہمارے ساتھ انہوں نے ان نے اس بابت کچھ شیئر نہیں کیا ہے۔ البتہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا افغان طالبان کو وہ دوست سمجھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم اچھے اور برے طالبان کون ہیں۔ ’میں دہشت گردوں میں تفریق نہیں کرسکتا ہوں۔’

ہمسایہ ملک بھارت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ دلی کی جانب سے مذاکرات شروع نہ کرنے پر انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ داخلی دباؤ برداشت نہیں کر پائے جس کی وجہ سے مذاکرات شروع نہیں ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ’وہ ہر معاملے پر مذاکرات جاری رکھنے کو آمادہ تھے لیکن واپس جاکر وہ تبدیل ہوگئے‘۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کو انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران بھارتی ہم منصب سے ملاقات کی اجازت دی تھی جس کا امکان تھا لیکن بھارت کی وجہ سے یہ ملاقات بھی نہ ہوسکی۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تیسرے ملک کی ثالثی کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اوباما حکومت بنی تو خیال تھا کہ سابق صدر کلنٹن کو کشمیر پر ثالثی کی ذمہ داری دی جائے گی لیکن پھر رچرڈ ہالبروک کو خصوصی ایلچی مقرر کر دیا گیا۔ ’امریکہ اس حالت میں ہے کہ پاک بھارت مذاکرات کروا سکتا ہے‘۔

خوشاب جوہری پلانٹ کی توسیع کے بارے میں ایک سوال کا جواب انہوں نے یہ کہتے ہوئے نہیں دیا کہ اس پر وہ اس وقت بات نہیں کرسکتے ہیں۔

سیلاب کے دوران امداد کے بارے میں بعض حلقوں کے حکومت کی اہلیت اور شفافیت سے متعلق خدشات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس قدرتی آفت کے دوران بھی ہر چیز پر سیاست کی گئی۔ ’ہماری بےعزتی پہلے ہوگئی لیکن ابھی تک عالمی امداد آئی نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اورسائیٹ کونسل خاموشی کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کونسل میں بڑے معتبر نام ہیں۔’میں انچارج نہیں ہوں صوبائی حکومتیں امدادی کارروائی کر رہی ہیں‘۔

اسی بارے میں