زراعت کی کمر کیسے سیدھی ہوگی؟

سوات کا پل
Image caption دریائے سوات پر بنے نو بڑے پلوں سمیت تینتالیس پل تباہ ہو گئے ہیں

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ زیرِ نظر تحریر اس سلسلے کی سینتالیسویں کڑی ہے۔

سوموار چار اکتوبر ( منگورہ)

آج نامہ نگار شیریں زادہ سے ملاقات ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر الیکٹرونک میڈیا کے صحافیوں کو لے کر کالام جائے گا۔کہیے تو نام ڈلوا دوں۔ویسے کل یہی ہیلی کاپٹر پرنٹ میڈیا والوں کو لے کر جانے والا تھا لیکن پرواز منسوخ ہوگئی۔ میں نے سوچا پیشکش قبول کروں۔۔۔نہ کروں۔۔۔موسم ، محبوب کے وعدے ، ہوا کے رخ ، وکیل کے موڈ ، سیاستداں کی قسم اور ہیلی کاپٹر کے انجن کا کچھ پتہ نہیں۔اگر آج میں رک گیا اور ہیلی کاپٹر نہ گیا تو پورا دن کیا کروں گا۔آگے شانگلہ ، کوہستان ، دیامیر، گلگت ، بلتستان پڑا ہوا ہے۔ ایک دو تین چار۔۔۔نہیں شکریہ میں نہیں جاؤں گا۔۔۔بس اتنا کیجئے کمشنر مالاکنڈ سے ملوا دیجئے۔ وہ نہ ہوں تو ڈی سی او سوات۔ وہ نہ ہوں تو کوئی بھی سرکاری بندہ جو مجھے سیلاب کی تباہ کاری کا سرکاری نقشہ دکھا سکے۔چنانچہ شیریں زادہ کی مہربانی سے ای ڈی او ہیومین ریسورسز نعیم اختر سے ملاقات کا انتظام ہوگیا۔نعیم اختر کے روبرو میں ایک مودب شاگرد کے طور پر بیٹھ گیا اور انہوں نے بڑی محبت کے ساتھ سیلاب کی اے بی سی بتانا شروع کی۔

’ضلع سوات پانچ ہزار تین سو سینتیس مربع کیلومیٹر پر مشتمل ہے۔ پینسٹھ یونین کونسلوں پر مشتمل سات تحصیلیں ہیں۔ بری کوٹ ، بابو زئی ، چار باغ، خوازہ خیلہ، بحرین ، کبل اور مٹہ۔ضلع کی آبادی لگ بھگ بیس لاکھ ہے۔ سیلاب سے بائیس یونین کونسلیں بری طرح اور سولہ جزوی طور پر متاثر ہوئیں۔کالام سمیت بحرین تحصیل کی ساتوں یونین کونسلوں کو دریائے سوات اور اس میں ملنے والے دو پہاڑی نالوں مرغزار اور جابیر نے خوب خوب مارا۔

مدین میں ٹراؤٹ کے تینتیالیس فش فارم اور پرورش گاہیں ختم ہوگئے۔دریائے سوات پر بنے نو بڑے پلوں سمیت تینتالیس پل ختم ہوگئے۔اگرچہ کچھ پلوں کو جزوی طور پر بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن زیادہ تر کی بحالی موسمِ سرما گذرنے کے بعد ہی ممکن ہوسکے گی۔ایک سو دو سڑکیں ناکارہ ہوگئیں۔جن کی مجموعی لمبائی چھ سو سترہ کلومیٹر بنتی ہے۔

Image caption دریاؤں نے تو نقصان پہنچایا ہی چھوٹے بڑے نالے بھی پیچھے نہ رہے

طالبان کے دور میں چار سو سے زائد سکول تباہ ہوئے تھے۔مگر سیلاب نے تہتر سکول اور برباد کر دیے۔مدین کا سول ہسپتال بہہ گیا۔ آبپاشی کے پچاسی پکے نالے ناکارہ ہوگئے۔ نجی املاک کے چھ ہزار سے زائد یونٹ تباہ ہوگئے۔جن میں چھیالیس سو گھر، ڈیڑھ ہزار دوکانیں اور ایک سو آٹھ ہوٹل اور ریستوران شامل ہیں۔

اگرچہ سیلاب سے مکمل تباہ شدہ مکانات کے لیے چار لاکھ روپے فی یونٹ اور جزوی طور پر نقصان زدہ مکان کے لیے ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے فی یونٹ معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم ابھی تو شدت پسندی کے دوران نقصان زدہ مکانات کے معاوضے کا سلسلہ بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ساڑھے نو ہزار میں سے اب تک صرف تین ہزار کے لگ بھگ مکانات کا معاوضہ تقسیم ہو سکا ہے۔

جہاں تک جانی نقصان کا معاملہ ہے تو سیلاب کے سبب مکانات تلے دبنے یا بہہ جانے کے سبب ایک سو چوالیس اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔چھپن زخمی ہوئے ہیں جبکہ چوبیس افراد لاپتہ ہیں۔

سیلاب کا طبل پچیس جولائی سے مسلسل شروع ہونے والی بارشوں نے بجایا۔عام طور پر وادی سوات میں مون سون نہیں پہنچتا۔لیکن اس سال غیرمعمولی طور پر مسلسل بارہ روز تک وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی۔پانی کی مقدار کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ کبل اور منگورہ کے درمیان دریا پندرہ سو میٹر کی چوڑائی میں بہہ رہا تھا۔

جہاں تک زراعت کی تباہی کا معاملہ ہے تو سوات میں لگ بھگ ایک لاکھ ایکڑ اراضی قابلِ کاشت ہے۔اس میں چونتیس ہزار ایکڑ پر چاول، گندم اور سبزیاں بالخصوص آلو اور ٹماٹر کی کاشت ہوتی ہے۔ بیس ہزار ایکڑ پر سیب، آڑو اور دیگر پھلوں کے باغات ہیں۔ایک خاندان کے پاس اوسطاً زیادہ سے زیادہ بیس ایکڑ کے لگ بھگ زمین ہے۔ اندازہ ہے کہ سیلاب سے براہ راست یا بلاواسطہ اسی فیصد زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے۔‘

ای ڈی او نعیم اختر کے بعد میری ملاقات ماہرِ زراعت و باغبانی فضل مولا زاہد سے ہوئی۔ان کا کہنا ہے کہ سوات میں لگ بھگ ایک لاکھ اسی ہزار خاندان کسی نہ کسی طور زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔سیلاب کے سبب دریائے سوات تو جوش میں آیا ہی آیا اسکے بہتر کے لگ بھگ چھوٹے بڑے معاون نالے دریا سے بھی زیادہ جوش میں آگئے۔ نتیجے میں دریا نے اپنے کناروں سے نکل کر پانچ پانچ سو میٹر دائیں بائیں غدر مچا دیا۔جبکہ لنڈاکئی سے بٹ خیلہ تک دریا ایک کلومیٹر چوڑائی میں بہتا رہا۔

Image caption ہزاروں خاندانوں کے لیے رسد پہنچانا سب سے بڑا چیلنج ہے

جب سیلاب آیا تو بیگمی چاول کی فصل، آڑو کی آٹھ نمبر ورائٹی، خوبانی اور سیب کی کچھ اقسام تیار ہوچکی تھیں۔ بیشتر نقصان تو بارش نے کیا۔رہی سہی کسر ٹوٹے پھوٹے راستوں نے پوری کردی۔اور جو فصل جہاں اور جس حال میں تھی وہیں ختم ہوگئی۔اس کے علاوہ بڑے نالوں اور دریا کے کنارے لگ بھگ ایک ہزار چھوٹی پن چکیاں بھی تھیں جن میں گندم اور مکئی کا آٹا پستا تھا۔ان میں سے اسی فیصد تباہ ہوگئیں۔ساڑھے سات سو خاندان شہد کی مکھیاں پالنے کی صنعت سے وابستہ تھے۔سیاحت کے زوال اور پھر سیلاب کے سبب ان میں سے بیشتر خاندان راندہ درگاہ ہوگئے۔

فضلِ مولا کا اندازہ ہے کہ سیلاب سے کم ازکم ساڑھے چار ارب روپے کا زرعی نقصان پہنچا ہے۔

پچھلے تین برس میں سوات میں جتنے جنگلات کٹے وہ اس سے پہلے کے بیس سال کے برابر ہیں۔طالبان نے اپنی نقل و حرکت سہل بنانے کے لیے زیرِ قبضہ علاقوں میں لگ بھگ بیس فیصد باغات کاٹ ڈالے۔جبکہ فوج نے سڑک سے دو سو فٹ کے فاصلے تک مکئی کی کاشت پر پابندی لگا دی۔یوں مکئی کا پچاس فیصد زیرِ کاشت رقبہ ویسے ہی ختم ہوگیا۔

زراعت کی طویل المعیاد بحالی بچوں کا کھیل نہیں۔ایک تو پہاڑی علاقوں میں سیڑھی در سیڑھی کھیت بنانا نہایت محنت طلب کام ہے۔دوسرے موسمیاتی تبدیلیاں بہت تیزی سے آرہی ہیں۔مثلاً گذشتہ برس وادی میں ریکارڈ برفباری ہوئی۔اس کے بعد آندھیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔اور اب لگتا ہے کہ مون سون نے ان علاقوں تک بھی پاؤں پھیلا لئے ہیں جہاں سے وہ کبھی نہیں گذرا تھا۔

فضل مولا کے بقول بالائی سوات میں سرد موسم شروع ہوچکا ہے۔بہت سے علاقے برف کے سبب کٹ جائیں گے۔اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان ہزاروں خاندانوں کے لیے رسد کا کیا انتظام ہوگا۔جن کے پاس اپنے استعمال کی فصل بھی نہیں بچی۔

فضل مولا سے ملاقات کے بعد میں نے شانگلہ کے لیے رختِ سفر باندھا۔پیسے کم ہوگئے ہیں۔سیدو سے منگورہ تک ایک ایک اے ٹی ایم مشین پر کوشش کرکے دیکھ لی۔کسی میں پیسے نہیں تھے۔کسی میں پیسے تھے تو سکرین کا ٹچ سسٹم خراب تھا۔کسی کا ٹچ سسٹم درست تھا تو کارڈ ریڈ کرنے والا نظام پاگل ہوچکا تھا۔غرض یہ کہ کسی مشین سے پیسے نہیں ملے۔اگر آگے اے ٹی ایم مشین بھی نہ ملی تو کیا کروں گا۔ظاہر ہے کچھ نہیں کروں گا۔۔۔کیا کرسکتا ہوں؟

اسی بارے میں