برطانوی جریدے کا پاکستان نمبر

Image caption گرانٹا کی جانب سے پاکستانی ادب اور آرٹ پر یہ تفصیلی دستاویز آنے کا واقعہ یقیناً غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے

ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر، خصوصاً مغربی ممالک میں، پاکستان کا نام خودکش بم دھماکوں، اقتصادی بدحالی، سیاسی عدمِ استحکام اور عوامی بے چینی کی علامت بن چکا ہے، گرانٹا کی جانب سے پاکستانی ادب اور آرٹ پر یہ تفصیلی دستاویز آنے کا واقعہ یقیناً غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

’گرانٹا‘ پاکستانیوں کے لیے ایک اجنبی نام ہے اور شاید ہمیشہ اجنبی ہی رہتا اگرگزشتہ ماہ یہ برطانوی جریدہ پاکستان کے بارے میں ایک خصوصی شمارہ جاری نہ کرتا۔

مغربی دنیا میں بھی انگریزی کا یہ سہ ماہی جریدہ کوئی عوامی قسم کا رسالہ نہیں ہے اور اس کی کھپت زیادہ تر دانش وروں، پرفیسروں، ادیبوں اور شاعروں میں ہے۔ دراصل یہ جریدہ سنہ اٹھارہ سو نواسی میں کیمرج یونیورسٹی کے کچھ طالب علموں نے شروع کیا تھا اور تب اس کا مقصدطالب علموں کی سیاست پر نگاہ رکھنا تھا۔ کوئی اسّی برس تک یہ رسالہ اسی حیثیت میں شائع ہوتا رہا اور اس میں لکھنے والے کئی غیر معروف نوجوان بعد میں جانے پہچانے ادیب بنے، مثلاً ٹیڈِ ہیو اور سِلویا پلیتھ وغیرہ۔

Image caption لڑاکا جیٹ طیارے پر گیلے کپڑے سوکھ رہے ہیں، لیکن سب کپڑوں کا رنگ ُسرخ ہے۔۔۔ خون جیسا ُسرخ

سنہ انیس سو ستر کے عشرے میں یہ رسالہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوگیا چنانچہ انتظامیہ نےاسےایک بالکل نیا روپ دے دیا اور اب یہ رسالہ نئی تحریروں کا نمائندہ بن گیا۔ افسانہ، آپ بیتی اور تصویری صحافت گرانٹا کی خصوصی پہچان بن گئی اور مغربی دنیا کے دانش ور طبقے میں اس کی پذیرائی ہونے لگی۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران اس میگزین نے بھارت اور چین کی سماجی، سیاسی اور علمی و ادبی صورتِ حال پر خصوصی نمبر شائع کئے تو کئی مشرقی ممالک میں بھی اس کا شہرہ ہوگیا۔

گرانٹا نے اپنے تازہ ترین شمارے میں پاکستان پر توجہ مبذول کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر، خصوصاً مغربی ممالک میں، پاکستان کا نام خودکش بم دھماکوں، اقتصادی بدحالی، سیاسی عدمِ استحکام اور عوامی بے چینی کی علامت بن چکا ہے، گرانٹا کی جانب سے پاکستانی ادب اور آرٹ پر یہ تفصیلی دستاویز آنے کا واقعہ یقیناً غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

دو سو اٹھاسی صفحات کے اس کتاب نما میگزین کے ٹائٹل پر ’ٹرک آرٹ‘ کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے جس میں شیروں کا جوڑا، پھول، پتے، بیلیں، دریا پہاڑ، جھونپڑی، آمنے سامنے بیٹھے دو پرندے اور نیم دائرے میں لکھا ہوا پاکستان کا نام جس کے حروف کی آرائش پر وہ تمام رنگ و روغن استعمال کیا گیا ہے جو ہماری ’ٹرک پینٹنگٰ‘ سے مخصوص ہے۔

Image caption محسن حامد بھی مغربی دنیا میں نام پیدا کرنے کے بعد محمد حنیف کی طرح پاکستان منتقل ہو چکے ہیں

سرِورق پلٹتے ہی آپ کو فہرستِ مضامین میں کئی معروف ناموں سے واسطہ پڑتا ہے، ایسے نام جنھیں آپ انگریزی میں لکھی جانے والی دیسی فکشن کے حوالے سے جانتے ہیں، مثلاً ندیم اسلم، محسن حامد، عظمٰی اسلم خان، محمد حنیف، عامر حسین اور کاملہ شمسی۔

محمد حنیف نے اپنے نئے ناول کا ایک باب پیش کیا ہے جسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگلے برس شائع ہونے والے اس ناول کے کردار پاکستان کی کرسچن برادری سے تعلق رکھتے ہیں، البتہ اس اقتباس کے لیے مصنف نے جو چمکیلا بھڑکیلا عنوان چُنا ہے (بٹ اینڈ بھٹی ) اُس کی تفہیم صرف پاکستان، بالخصوص پنجاب ہی میں ممکن ہے کیونکہ یہ عنوان ایک انگریزی فلم کی مزاحیہ پنجابی ڈبنگ سے تعلق رکھتا ہے، البتہ اس اقتباس کو ایک پیروڈی کا عنوان دیکر مصنف نے اس جانب واضح اشارہ کردیا ہے کہ اُن کا نیا ناول بھی حقیقت پسندی کی گھسی پٹی ڈگر سے ماوراء طنز و استہزا اور بلیک کامیڈی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔

محسن حامد بھی مقامی انگریزی فکشن کا ایک معروف نام ہیں اور دو کامیاب ناولوں کے بعد اب تیسرا ناول لکھ رہے ہیں۔ مغربی دنیا میں بطور مصنف نام کمانے کے فوراً بعد محمد حنیف کی طرح محسن حامد بھی اب پاکستان آکر آباد ہو چکے ہیں۔

زیرِ نظر جریدے میں اُن کی ایک مختصر تحریر شامل ہے جس کا واحد مُتکلّم طالبان کے ہتّھے چڑھ چُکا ہے جو اس کا سر قلم کرنے کے لیے اسے اغوا کر لیتے ہیں۔ جب سر اُڑانے کی تیاری مکمل ہو جاتی ہے تو مغوی فریاد کرتا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس نے مذہب کے خلاف کبھی کچھ نہیں لکھا۔۔۔ اور اگر طالبان کہیں تو وہ آئندہ لکھنے پڑھنے کا پیشہ ترک کر دے گا۔۔۔ لیکن طالبان ایک نہیں سنتے اور ویڈیو کیمرہ چالو کر کے اس کا سر قلم کر دیتے ہیں۔ مغوی کی آخری فریاد سن کر پتہ چلتا ہے کہ یہ تحریر مصنف کے اپنے خوف کی تجسیم ہے۔

لیکن خود نمائی اور خود ترسی پر مبنی صیغہء واحد متکلم کا یہ بیانیہ کسی طرح بھی محسن حامد کی ادبی شان کے شایاں نہیں ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ گرانٹا کے کار پردازوں کی خصوصی فرمائش پر مصنف نے عجلت میں یہ تحریر گھسیٹی ہے۔

ندیم اسلم، عظمٰی خان اور کاملہ شمسی کی تحریریں اپنی اپنی خوبیاں رکھتی ہیں اور جو لوگ اِن ادیبوں کے سٹائل سے واقف ہیں وہ ان تحریروں سے بھی مایوس نہیں ہوں گے لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا گرانٹا نے محض انگریزی میں لکھنے والے پاکستانی ادیبوں کا احاطہ کیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر اسد محمد خان اور مرزا اطہر بیگ سمیت اُردو اور علاقائی زبانوں میں فکشن لکھنے والے بے شمار ادیبوں کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا ہے؟

ایک اور بات بھی کھٹکتی ہے کہ عامر حسین اور دانیال محی الدین جو کہ انگریزی زبان میں شائع ہونے والی فکشن کے دو معتبر نام ہیں، انھیں اس حیثیت میں سامنے نہیں لایا گیا۔ دانیال محی الدین کو ایک شاعر کے طور پہ پیش کیا گیا ہے جبکہ عامر حسین کا کوئی افسانہ شائع کرنے کی بجائے بچپن کے لندن کی یادوں پہ مبنی ایک مضمون شائع کیا گیا ہے۔

دیگر غیر افسانوی تحریروں میں صوبہ سرحد کے متعلق ایک معلوماتی مضمون، منگھو پیر اور عرفِ عام میں مکرانی کہلانے والے شیدیوں کے بارے میں ایک تحریر، فیصل شہزاد کے نیو یارک بم کیس پر ایک رپورٹ محمد علی جناح کی شخصیت اور اُن کے سیکولر کردار پر ایک مضمون کے علاوہ انتظار حسین کی ایک دلچسپ تحریر شامل ہے جس میں سرکاری میڈیا کی سینسر شپ پالیسی کے بعض انتہائی مضحکہ خیز پہلؤں سے پردہ اٹھتا ہے، مثلاً ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ایک سکرپٹ میں مکئی کے ُبھّٹے کا ذکر وجہ نزاع بن جاتا ہے کیونکہ اس لفظ سے بھُٹو کی گونج سنائی دیتی ہے اور اسلام کے ثقافتی ورثے میں سے تاج محل کا ذکر خارج کردیا جاتا ہے کیونکہ یہ عمارت دشمن ملک بھارت میں واقع ہے۔

گرانٹا کے اس خصوصی شمارے کا ایک خوبصورت پہلو یہ ہے کہ نثری مضامین کی یکسانی توڑنے کے لیے مناسب وقفوں کے بعد نظمیں اور تصویریں شامل کی گئی ہیں۔

صفحہ نمبر ایک سو نوے پر حسینہ گُل نامی خاتون کی یہ نظم دکھائی دیتی ہے:

We grow up

but do not comprehend life.

We think life is just the passing of time.

The fact is,

Life is one thing,

And time something else

نظم جیسی بھی ہے، یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ کونسی زبان سے ترجمہ کی گئی ہے: اُردو سے، پشتو سے، ہندکو سے، فارسی سے، یا کسی اور زبان سے؟

جریدے کے اس پاکستان نمبر کا خوشگوار ترین پہلو اس میں شامل تصاویر ہیں۔ ٹائٹل کی تصویر کا ذکر ہم کر چکے ہیں، دیگر تصویروں میں کچھ تو تحریروں کی مناسبت سے تلاش کر کے لگائی گئی ہیں مثلاً کراچی کی غیر مسلم اقلیت کی تصاویر، لیکن مصوری اور فوٹو گرافی کے کچھ نمونے خود اپنی حیثیت میں قائم ہیں۔

ان میں نمایاں ترین تصویر ایک ناکارہ جیٹ لڑاکا طیارے کی ہے جسے اب یادگار کے طور پر ایک چوک میں نصب کردیا گیا ہے۔ آرٹسٹ نے اس طیارے پر سوکھنے کے لیے گیلے کپڑے ٹانگ دیئے ہیں لیکن معنی خیز بات یہ ہے کہ سب کپڑوں کا رنگ سرخا سرخ ہے۔۔۔۔ بالکل خون جیسا۔ یہی پہلو اس تصویر میں وہ باریک سیاسی نکتہ پیدا کرتا ہے جس کے باعث یہ تصویر اشاعت کے قابل سمجھی گئی۔

دو سو اٹھاسی صفحے کے اس میگزین کی قیمت تیرہ برطانوی پاؤنڈ یا سترہ امریکی ڈالر ہے جوکہ پاکستان میں عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہے لیکن پاکستان میں عام آدمی غیر ملکی جرائد کا مطالعہ نہیں کرتا کم از کم ذاتی طور پر خرید کر تو ہرگز نہیں کرتا۔

لیکن جو لوگ یہ رسالہ خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں انھیں بھی پاکستان میں یہ آسانی سے دستیاب نہیں کیونکہ برطانوی ناشر نے اس کی تقسیم کاری کا اجارہ ایک بھارتی کتب فروش کو دے رکھا ہے، یہ فراموش کرتے ہوئے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کُتب و رسائل کا تبادلہ کوئی آسان کام نہیں کیونکہ سرکاری جکڑ بندیاں جگہ جگہ رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔

اسی بارے میں