فوج اور پولیس کے لیے ناخواندہ لوگ

سردار عتیق
Image caption ‘جس نے چار ٹی وی چینلز دیکھے ہوتے ہیں وہ اپنا ہی فلسفہ بیان کرتا ہے’۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پڑھائی لکھائی سے بعض مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں لہذا فوج اور پولیس میں دس فیصد کوٹہ ان پڑھ لوگوں کے لیے مختص کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے اتوار کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی تریسٹھویں یوم تاسیس کے موقع پر مظفرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں انگریزوں نے امریکہ سے ہندوستان تک حکمرانی کی اور اس کے لیے اپنا نظام وضع کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انگریزوں کی طرز حکمرانی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ‘انگریز حکمرانوں نے خاص طور پر فوج اور پولیس میں ان پڑھ لوگوں کے لیے کوٹہ مختص کیا تھا جن کو صرف یہ معلوم تھا کہ اوپر سے جو حکم ملا ہے، بغیر سوال و جواب کہ اس کی تعمیل کرنی ہے’۔

انھوں نے کہا کہ پڑھائی لکھائی سے جہاں معاشرے کو فائدہ بھی پہنچا ہے وہاں اس سے بعض مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوتے ہوئے کہا ‘جس نے چار ٹی وی چینلز دیکھے ہوتے ہیں وہ اپنا ہی فلسفہ بیان کرتا ہے’۔

انھوں نے کہا فوج اور پولیس میں ایک ایسا طبقہ ہونا چاہیے جو کوئی سوال پوچھے بغیر حکم کی تعمیل کرے۔

وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ‘پیشہ وارانہ مہارت ہو، وفاداری ہو اور یا پھر کمانڈ کے احکامات پورا کرنے کے تقاضے ہوں تو جنوبی ایشیا کی تاریخ میں

ان پڑھ لوگوں کا ریکارڈ پڑھے لکھے لوگوں کے مقابلے میں سوگناہ بہتر ہے’۔

انہوں نے کہا کہ انگریز حکمرانوں کا ریکارڈ بھی اس کی گواہی دیتا ہے۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ‘میں یہ تجویز کرنا چاہوں گا کہ (فوج اور پولیس میں) دس فیصد کوٹہ ایسے ان پڑھ لوگوں کے لیے مختص کیا جانا چاہیے جو عمر کے لحاظ سے اہل ہوں اور صحت مند ہوں مگر وہ کبھی سکول کے قریب سے بھی نہ گزرے ہوں’۔