بلوچستان:’ٹارگٹ کلنگ‘، پانچ ہلاک

Image caption ژوب شہرمیں ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے تین مختلف واقعات میں جمعیت علماء اسلام (نظریاتی ) ژوب کے ضلعی امیر سمیت پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان کےضلع کوہلومیں پیر کی صبح نامعلوم مسلح افراد نے ماوند میں بجلی کے کھمبے لگانے والی ایک پرائیوٹ کمپنی کے مزدوروں کے کیمپ پر اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔

فائرنگ کے اس واقعہ میں تین مزدور ہلاک اور تین زخمی ہوئے جنہیں سول ہسپتال کوہلو پہنچایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے تینوں زخمی مزدوروں کو بہتر علاج کے لیے ملتان روانہ کر دیا ہے۔

فائرنگ کے اس واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کا تعلق پشتون کاکڑ قبیلے اور ژوب کے علاقے قمرالدین سے بتایا گیا ہے۔

واقعہ کے بعد بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) کے ترجمان آزاد بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ کسی نے علاقے میں ترقیاتی کام کرنے کی کوشش کی تو ان کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔

دوسری جانب بلوچستان کے شہر ژوب میں پیر کی ہی صبح نامعلوم افراد نے جمعیت علماء اسلام( نظریاتی ) ژوب کے ضلعی امیر شیخ ایوب کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ گھر سے نکل کر بازار کی طرف جا رہے تھے۔

اس واقعہ کے بعد جمعیت علماء اسلام کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ ژوب شہرمیں ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ پولیس نے شیخ ایوب کے قتل کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ چوبیس جولائی سال دو ہزار سات کو ژوب میں شیخ ایوب کے گھر پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے دوران پاکستانی طالبان کے سابق سربراہ عبداللہ محسود ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے ۔

ادھر کوئٹہ سے پچاس کلومیٹر دور مستونگ شہرمیں نامعلوم افراد نے آفریدی روڈ پر ایک شخص پر فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے تاہم آخری اطلاع تک ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں