آخری وقت اشاعت:  پير 25 اکتوبر 2010 ,‭ 13:42 GMT 18:42 PST

پانی تو اتر گیا مگر چھت نہ ملی

ستر فیصد مکانات مکمل اور تیس فیصد جزوی طور پر تباہ ہوئے

پاکستان میں پنجاب دوسرا صوبہ تھا جو خیبر پختونخواہ کے بعد سیلاب کا شکار ہوا اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کےگیارہ اضلاع کے ساٹھ لاکھ افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے۔

صوبہ پنجاب میں سیلاب سے تین لاکھ تیس ہزار مکانات تباہ ہوئے اور ان مکانات میں بسنے والے افراد سیلابی پانی اتر جانے کے باوجود بےسروسامانی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

پنجاب میں سیلاب کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے افراد کو ابتدائی طور پر ایک ہزار کے قریب سکولوں اور تین سو سے زائد امدادی کیمپوں میں رکھا گیا تھا جبکہ لاکھوں افراد ایسے تھے کہ جنہیں کوئی کیمپ نہ ملا تو انہوں نے سڑکوں اور کھلے میدانوں میں ہی ڈیرے جما لیے۔

اب جبکہ صوبے میں سیلابی پانی اتر گیا ہے تو حکومت اور مخِتلف سماجی تنظیموں کی جانب سے لگائے گئے یہ امدادی کیمپ بند کر دیےگئے ہیں۔

پنجاب حکومت نے تباہ ہونے والے دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم خالد شیردل کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ مثالی گاؤں مخیر افراد کی امداد سے بنائے جا رہے ہیں اس لیے ان کی تکمیل کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا۔

پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل خالد شیر دل کے مطابق انہیں یہ کیمپ اس لیے بند کرنے پڑے کیونکہ سکولوں کو کھولنا تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اب تک صرف ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک خیمے بانٹے گئے ہیں اس لیے آدھے سے زیادہ خاندان ایسے ہیں کہ جنہیں ٹینٹ بھی نہیں مل سکے ہیں۔

خالد شیردل کے مطابق تباہ شدہ مکانات میں سے ستر فیصد مکمل طور پر اور تیس فیصد جزوی طور پر تباہ ہوئے اور حکومت نے تباہ شدہ دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم خالد شیردل کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ مثالی گاؤں مخیر افراد کی امداد سے بنائے جا رہے ہیں اس لیے ان کی تکمیل کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا۔

سرد موسم

سیلابی پانی اتر جانے کے بعد متاثرین سیلاب اپنےگھروں کو تو لوٹ گئے لیکن انہیں درپیش ایک بڑا مسئلہ بے سروسامانی کے عالم میں سرد موسم کا سامنا ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ایم ڈی کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت یکم نومبر سے ایک مہم شروع کر رہی ہے جس میں سکولوں کے بچوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے کمبل، لحاف اور گرم کپڑے لائیں جبکہ دس فیصد متاثرین کو حکومت نے خود کمبل اور لحاف دینے کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

خالد شیر دل نے کہا کہ متاثرین وطن کارڈ سے ملنے والی بیس ہزار کی رقم سے بھی اپنے لیے لحاف خرید سکتے ہیں کیونکہ بقول ان کے بیس ہزار کی رقم کافی ہوتی ہے۔تاہم ایسی مہم سے اتنے بڑے پیمانے پر بے گھر ہونے والے متاثرین کو جلد از جلد ایسا ساز وسامان فراہم کرنا ممکن نہیں ہے جس سے وہ سرد موسم کی سختی سے بچ سکیں۔

زراعت اور مال مویشی

ستر لاکھ ایکڑ سے زائد قابل کاشت اراضی سیلاب سے متاثر ہوئی

موسمی حالات سے نبرد آزما اور اس وقت بنیادی ضروریات سے محروم متاثرین سیلاب کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ذرائع آمدنی سے بھی محروم ہو چکے ہیں کیونکہ کافی تعداد میں لوگوں کے مویشی بھی پانی کی نظر ہوئے جبکہ بچ جانے والے جانور مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سیلابی پانی نے تقریباً پانچ ہزار مویشی نگل لیے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں جانور متاثر ہوئے۔ سیلاب کی بے رحم موجیں آٹھ سو سے زائد پولٹری فارم بہا کر لے گئیں اور یوں سیلاب زدہ علاقوں کے لوگوں کا ایک اہم ذریعۂ معاش بھی جاتا رہا۔

پنجاب میں ستر لاکھ ایکڑ سے زائد قابل کاشت اراضی سیلاب سے متاثر ہوئی اور دس فیصد تیار فصلیں سیلابی پانی میں بہہ گئیں۔تباہ ہونے والی فصلوں میں کپاس،گنا ،چاول، جوار، دال اور چارہ شامل ہیں اور اس سے زراعت میں پنجاب کو اسّی ارب روپے سے زائدکا نقصان ہوا۔

خالد شیر دل کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کے اس نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خالد شیر دل کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے وہ کاشت کار جن کے پاس پچیس ایکڑ سے کم زمین ہے انہیں ساڑھے بارہ ایکڑ تک حکومت فی ایکڑ ایک بوری کھاد اور ایک بوری بیج دے گی۔

تعلیم اور مواصلاتی نظام

سیلاب کی بے رحم موجیں آٹھ سو سے زائد پولٹری فارم بہا کر لے گئیں اور یوں سیلاب زدہ علاقوں کے لوگوں کا ایک اہم ذریعۂ معاش بھی جاتا رہا۔

حکومتی سروے کے مطابق سیلاب سے صوبہ پنجاب میں تعلیمی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا اور جہاں سات سو سے زائد سکول مکمل تباہ ہوئے وہیں تین ہزار سے زائد سکولوں کی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ متعدد کالجز کو بھی نقصان ہوا۔

پنجاب کے سیلاب سے متاثر ہونے والے گیارہ اضلاع میں سیلاب نے جہاں گھر، جانور اور فصلیں تباہ کیں وہیں بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہوا اور ایک ہزار کے قریب سڑکیں ٹوٹ گئیں جبکہ پانچ سو کے قریب نہریں، نالے اور ستر کے قریب بند بہہ گئے۔

مواصلات کا نظام خراب ہونے کے سبب ابھی بھی لاکھوں متاثرین ایسے ہیں جنہیں غیر سرکاری تنظیموں اور خود حکومت کی جانب سے دی گئی امداد نہیں پہنچ پا رہی۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔