سیلاب کے دھچکے سے معاشی کمزوریاں نمایاں

سیلاب
Image caption سیلاب سے ملک کی اہم زرعی اراضی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے

پاکستان کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ سیلاب سے آنے والے دھچکوں نے ملکی معیشت میں موجود کمزوریوں کو مزید نمایاں کردیا ہے اور ان کی درستگی کے لیے معاشی نظم و ضبط میں بہتری لانے کے علاوہ معیشت کی لچک کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اصلاحات کی ضرورت ہے۔

سٹیٹ بینک نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد مالی سال دو ہزار دس، دو ہزار گیارہ کے دوران حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو دو سے تین فیصد رہے گی جبکہ افراطِ زر کی شرح ساڑھے چودہ فیصد تک پہنچ جائےگی ۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمزور مالیاتی کارکردگی کے باعث مالیاتی خسارہ دوبارہ بڑھ کر جی ڈی پی کا چھ اعشاریہ تین فیصد ہو جائےگا جبکہ مالیاتی خسارہ اور جاری حسابات کا خسارہ بالترتیب جی ڈی پی کا پانچ سے چھ فیصد اور تین سے چار فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے کئی معاشی اہداف کو سال کی ابتدا میں اس وقت سنگین دھچکا لگا جب ملک کا ایک بڑا علاقہ طوفانی بارش اور سیلاب کی زد میں آ گیا۔ اس سیلاب سے ملک کی اہم زرعی اراضی سب سے زیادہ متاثر ہوئی اور خریف کی کھڑی فصلوں کپاس، چاول، گنے اور مال مویشیوں کو خاصا نقصان پہنچا۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ بینک کے مطابق ملکی معیشت کو انفراسٹرکچر، گیس اور بجلی کے پلانٹس اور بعض صنعتی یونٹوں کو وسیع پیمانے پر ہونے والا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ رسد میں رکاوٹ اور بڑی تعداد میں لوگوں کے بے گھر ہونے سے جو پیداواری نقصانات ہوئے وہ اس سے الگ ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب کے اثرات نے رواں مالی سال میں مہنگائی میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔ تاہم سٹیٹ بینک کے تخمینوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سیلاب کی بنا پر آنے والے رسدی دھچکے کا براہ راست اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔

مثال کے طور پر جب رسد بہتر ہوگی اور نئی فصلیں بازار میں آئیں گی تو سیلاب اور بارش کے نقصانات اور چھوٹی فصلوں کی قلت کے اثرات دو سے تین ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہیں گے۔

بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی و بیرونی طلب کے مسلسل بڑھنے کی وجہ سے سیلاب سے پہلے ہی طویل مدتی اضافہ ہو رہا تھا اور سیلاب میں گلہ بانی کے نقصانات سے یہ بڑھتا ہوا رجحان سنگین تر ہوجائے گا۔

اس سالانہ رپورٹ کے مطابق معیشت کی بنیادی ساختی کمزوریاں جوں کی توں ہیں۔ مثال کے طور پر اہم اصلاحات کا بھرپور آغاز نہیں ہوسکا، مسلسل اختلافات کی وجہ سے وسیع البنیاد جی ایس ٹی کے نفاذ کی مجوزہ توسیع ملتوی ہوگئی، اس کے علاوہ کارکردگی بہتر بنانے اور مالیاتی بوجھ کم کرنے کے لیے سرکاری شعبے کے اداروں کی مجوزہ تشکیل نو نہ ہوسکی اور کچھ ابتدائی کام کے بعد توانائی کے شعبے کے قرضے کا مسئلہ حل کرنے یا بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری لانے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں