آخری وقت اشاعت:  منگل 26 اکتوبر 2010 ,‭ 04:49 GMT 09:49 PST

پاکپتن دھماکہ، ملزمان کے خاکے جاری

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پا کستان کے صوبۂ پنجاب کی پولیس نے حضرت بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حملے کے ملزموں کے خاکے جاری کر دیے ہیں۔

یہ خاکے زخمیوں اور دیگر عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں بنائے گئے ہیں۔

پولیس حکام کاکہنا ہے کہ دونوں ملزم شلوار قمیض اور جاگرز پہنے ہوئے تھے اور بظاہر صوبہ پنجاب کے ہی کسی علاقے کے مکین لگتے تھے۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکے ان پرتشدد کارروائیوں کے سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت ملک بھر میں خود کش حملے اور بم دھماکے کیے جارہے ہیں۔پاکپتن میں حضرت بابا فرید گنج شکر کے مزار پر ہونے والے بم حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ خاکوں کا عکس

پولیس نے دھماکہ خیز مواد کیمیاوی تجزیہ کے لیے بھجوا دیا ہے اس کی ساخت سے حملہ آور گروہ کے بارے میں اندازہ قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس طارق سلیم ڈوگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جو ملزموں کا سراغ لگانے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کر رکھے تھے جس کی وجہ سے حملہ آور دھماکہ خیز مواد کو اندر نہیں لے جاپائے البتہ انہوں نے کہا کہ پولیس کے سپاہی ہر کونے میں نہیں لگائے جاسکتے۔

واضح رہے کہ پیر کی صبح پاکپتن میں صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کی درگاہ کے باہر اس وقت دھماکہ ہوا تھا جب لوگ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد درگاہ سے واپس جارہے تھے۔

دودھ لانے والی موٹر سائیکل میں دھماکہ

ریجنل پولیس آفیسر امجد جاوید سلیمی نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ یہ دھماکا دربار کے شرقی دروازے کے باہر ہوا۔ امجد جاوید نے بتایا کہ پیر کی صبح چھ بجکر بیس منٹ پر موٹرسائیکل پر سوار دو افراد مزار کے شرقی گیٹ کے قریب پہنچے اور وہاں موٹر سائیکل کھڑی کرکے چلے گئے۔

موٹر سائیکل پر دودھ کی دو بالٹیاں ٹنگی ہوئی تھیں، کچھ دیر بعد موٹرسائیکل دھماکے سے پھٹ گئی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔

ریجنل پولیس آفیسر

انہوں نے کہا کہ اس موٹر سائیکل پر دودھ کی دو بالٹیاں ٹنگی ہوئی تھیں، کچھ دیر بعد موٹرسائیکل دھماکے سے پھٹ گئی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔

ان کے بقول یہ دھماکہ موٹر سائیکل پر رکھے گئے ایک دودھ کے ڈرم میں ہوا۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے آر پی او امجد جاوید سلیمی کے مطابق گزشتہ دنوں کراچی میں درگار میں ہونے خودکش حملہ کے بعد پنجاب میں بھی درباروں کی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا اور اسی وجہ سے بابا فرید کی درگار کے شرقی دروازے کو بند کردیا گیا تھا۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ جب پنجاب میں کسی درگار پر دھماکہ ہوا ہے اس سے پہلے لاہور میں داتا گنج بخش کی درگار پر خودکش حملہ ہوا جس میں وہاں موجود کم از کم سینتیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔