سپریم کورٹ بار کے انتخابات

Image caption پاکستان ہیومن رائٹس کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار کی پہلی خاتون صدراتی امیدوار ہیں

پاکستان میں سینئر وکلا کی نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ارکان آج اپنی نئی قیادت کا انتخاب کریں گے۔ پاکستان میں سینئیر عدلیہ کو بحال کرانے میں وکلا تحریک کے اہم کردار کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے یہ دوسرے انتخابات ہیں۔

ملک بھر سے دو ہزار سے زائد وکلاء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں اور سب سے زیادہ ووٹر لاہور میں ہے جہاں ان کی تعداد ایک ہزار سے بھی زائد ہے۔

ملک کے سینئر وکلا کی نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدرات کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں سے باری باری امیدوار منتخب کیے جاتے ہیں، اور مدت صدارت ایک برس ہوتی ہے۔ اس مرتبہ امیداوار کا انتخاب صوبہ پنجاب سے ہوگا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدارت کے لیے انسانی کمیشن کے سابق سربراہ عاصمہ جہانگیر امیدوار ہیں اور وہ پہلی خاتون وکیل ہیں جو سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں ۔

ان کے مدمقابل وکلا تحریک کے ایک رہنما حامد خان کی سربراہی میں قائم پروفیشنل گروپ کی طرف سے احمد اویس صدارتی امیدوار ہیں جبکہ اسی عہدے پر ایک تیسرے امیدوار چودھری اکرام ہیں۔

Image caption سپریم کورٹ بارکے صدارتی امیدوار احمد اویس سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے حق میں ہیں

ججوں کی بحالی کی تحریک کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات بھی خاصی اہمیت حامل ہوگئے ہیں اور اسی وجہ سے ملک کی سیاسی اور عدالتی صورت حال پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے گہرے نقوش مرتب کرتے ہیں۔

انتخابات میں وکلا تحریک کے رہنما بٹ گئے ہیں اور ماضی کی طرح کسی ایک متفقہ امیدوار کی حمایت نہیں کررہے ہیں۔

وکلا تحریک کے نمایاں رہنما علی احمد کرد ، مینر اے ملک ، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود، فخرالدین جی ابراہیم ، عابد حسن منٹو اور لطیف آفریدی عاصمہ جہانگیر کی حمایت کررہے ہیں جبکہ حامد خان ، رشید اے رضوی ، محمود الحسن ، سید اقبال حیدر ، باز محمد کاکڑ اور قاضی انور احمد اویس کی حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

عدلیہ کی بحالی کے دوران وکلا تحریک کے قائد اعتزاز احسن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں اپنا ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔

واضح رہے کہ عاصمہ جہانگیر کی ایک درخواست پر پاکستان کے سپریم کورٹ نے جنرل یحیْ خان کو غاصب قرار دیا تھا ۔

عاصمہ جہانگیر جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے دوران انیس سو چوراسی میں پنجاب بارکونسل کی رکن منتخب ہوئیں جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار احمد اویس بھی اسی دور میں بحالی جمہوریت کی تحریک کے دوران لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے ۔

احمد اویس کا موقف رہا ہے کہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غدرداری کا مقدمہ درج کیا جائے ۔

اسی بارے میں