’پاکستان پہلے سے زیادہ بدعنوان،

Image caption ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کسٹم اور عدلیہ کے بعد سب سے بدعنوان ادارہ فوج کو قرار دیا گیا ہے۔

بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ’ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل‘ کے پاکستان میں نمائندے عادل گیلانی نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان جو گزشتہ برس بدعنوان ممالک کی فہرست میں بیالیسواں ملک شمار ہوتا تھا، اب مزید گرواٹ اور بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے ساتھ چونتیسویں نمبر پر آگیا ہے۔

منگل کی شام کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے ملاقات میں عادل گیلانی نے بتایا کہ عالمی بینک اور ایشیائی بینک سمیت مختلف عالمی اداروں کے کئی جائزوں پر مبنی قیاس یا گمان کی بنیاد پر (یا پرسیپشن بیسڈ) اخذ کئے جانے والے نتائج کے مطابق پاکستان اس برس تین سو ارب روپے کی مزید بدعنوانی کے ساتھ آٹھ درجے طے کرکے اب چونتیسویں نمبر پر ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا نمائندے عادل گیلانی نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں بدعنوانی کا پاکستان سے تقابل کرتے ہوئے کہا کہ سن دو ہزار کے اوائل میں بنگلہ دیش سب سے زیادہ بدعنوان ملک سمجھا جاتا تھا مگر اب وہاں اقدامات کے نتیجے میں زبردست بہتری آئی ہے۔ ’بنگلہ دیش دو ہزار ایک سے دو ہزار تین تک سب سے زیادہ بدعنوان تھا، اس وقت جب پاکستان انیسویں اور بیسویں یا بائیسویں نمبر پر آیا تھا بنگلہ دیش گزشتہ برس پاکستان کے برابر آگیا اور آج پاکستان سے آٹھ ممالک زیادہ ہوگیا ہے۔ آج بہّتر بنگلہ دیشی ٹکہ ایک امریکی ڈالر کے برابر آگیا ہے جبکہ چھیاسی پاکستانی روپے ایک امریکی ڈالر کے برابر ہیں اور بنگلہ دیش میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری پاکستان سے چار گنا زیادہ ہوچکی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک اپنے اداروں کی مدد سے بدعوانی کا قلع قمع کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بدعنوانی کے سدباب کے لیے ایک ادارہ تھا، نیشنل اکاؤنٹی بلٹی بیورو (یا نیب) کام کررہا تھا مگر موجودہ حکومت نے آتے ہی اس ادارے کو غیر فعال کردیا۔

ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کے نمائندے عادل گیلانی نے بتایا کہ ’بدعنوانی کے سدباب کا ادارہ غیر فعال ہونے کی وجہ سے بدعنوانی مزید بڑھی۔ بدعنوان عناصر کی ہمت بڑھی، اور وہ قومی مفاہمتی آرڈینینس (این آر او) جو جنرل مشرف کے دور میں نافذ کیا گیا، تین برس میں ختم ہوگیا اور پارلیمان نے بھی اس کی توثیق سے انکار کر دیا۔ اسے سپریم کورٹ نے بھی ماننے سے انکار کردیا مگر اس کے اثرات یہ پڑے کہ بدعنوان عناصر پھر پاکستان واپس آئے۔ پھر بدعنوانی کی۔ اور آج انہیں پھر یہ احساس ہے کہ کل پھر معافی مل سکتی ہے۔ تو بدعنوانی کی کوئی حد نہیں رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور غربت میں اضافے کی وجہ بھی یہی بدعنوانی بن رہی ہے جس کے براہ راست اثرات اشیائے خورد و نوش یا کھانے پینے کی چیزوں پر پڑے۔ انہوں نے کہا چینی اور دالوں جیسی اشیاء کی قیمتوں میں ایک سو بیس فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ تو یہ چیزیں تو پاکستان میں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس میں نہ تو کچھ درآمد کرنے کی ضرورت ہے نہ کوئی اور معاملہ، ان میں اضافہ کیوں ہوا۔ یہ سب بدعنوانی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ کارٹیل بن رہے ہیں۔ لوگ ارب پتی ہوتے جارہے ہیں۔

گزشتہ دنوں پوری دنیا میں معاشی سست روی دیکھی گئی، مالی بحران سامنے آئے سب تباہ ہوگئے سب غریب ہوگئے مگر پاکستان میں ایک غیر سرکاری ادارے (پلڈاٹ کے مطابق) ارکان پارلیمان کے اثاثوں میں تین گنا اضافہ ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ رقم کے لحاظ سے سب سے زیادہ بدعنوان ادارہ پاکستان کسٹمز ثابت ہوا جبکہ ملک کی عدلیہ دوسرے نمبر پر رہی۔ انہوں نے کہا کہ فوج چوتھے نمبر پر رہی ہے اور اب بھی عدلیہ دوسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے پاکستان بدعنوانی کے نتیجے میں جن مشکلات سے دوچار ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ملک میں آنے والی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری رک گئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی اب عدلیہ ذرائع ابلاغ اور دیگر شہری حلقے مل کر بدعنوانی کو روک سکتے ہیں۔