اورکزئی نقل مکانی، واپسی شروع

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کے مطابق نقل مکانی کرنے والے متاثرین کا اپنے گھروں کو واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور آج سے سکھ برادری کے افراد کی واپسی کا سلسلہ شروع کر دیاگیا ہے لیکن سکھ کمیونٹی کے افراد کا کہنا ہے کہ ان کے لوگ اب تک واپسی کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ اب تک ساڑھے نو ہزار متاثرین کے خاندان واپس اپنے علاقوں کو چلے گئے ہیں جن میں تیس خاندان سکھ کمیونٹی سے ہیں۔

پشاور میں بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کا سلسلہ کچھ روز سے جاری ہے لیکن سکھ برادری کے افراد کی واپسی کا سلسلہ آج سے شروع ہوا ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کا کارروائیاں کوئی ڈیڑھ سال سے جاری ہیں۔ فرنٹیئر کور کےانسپکٹر جنرل کے مطابق اورکزئی آپریشن میں چھ سو پچاس شدت پسند اور پینسٹھ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس آپریشن سے کوئی بتیس ہزار خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جن کی واپسی کا سلسلہ آج سے شروع ہوگا۔

پشاور میں سکھ برادری کے نمائندہ صحاب سنگھ نے کہا ہے کہ اورکزئی ایجنسی سے سکھوں کو زبردستی نکالا گیا تھا جبکہ دیگر افراد حالات خراب ہونے کے بعد خود نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں سکھ واپس اورکزئی ایجنسی میں گھروں کو واپس نہیں جا رہے۔

اورکزئی ایجنسی سے تقریباً پچانوے سکھ خاندان ڈیڑھ سال پہلے پشاور پہنچے تھے اور اس وقت ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ اورکزئی ایجنسی میں سکھوں سے جزیہ طلب کیا گیا تھا اور اس وقت سکھوں کے مکانات کو آگ لگا دی گئی تھی اور دکانوں کو لوٹا گیا تھا۔

اسی طرح خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے کوئی دو سو سکھ خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے جن میں سے بیشتر اس وقت پشاور میں مقیم ہیں۔

صاحب سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان ڈیڑھ سالوں میں ان سکھ خاندانوں کی سرکاری سطح پر کوئی امداد نہیں کی گئی ، نہ ہی ان لوگوں کی کو رجسٹریشن کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مقامی سکھ برادری کے لوگ یہاں گوردوارے میں ان لوگوں کی اپنے طور پر مدد کر رہے ہیں۔ صاحب سنگھ کے مطابق اس بارے میں انھوں نے گورنر خیبر پختونخواہ کو خطوط بھی لکھے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

صوبہ خیبر پختونخواہ اور اس سے متصل قبائلی علاقوں میں کوئی ساڑھے پانچ ہزار سکھ آباد ہیں لیکن انھوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا اور اگر ان کی معاونت نہ کی گئی تو وہ پھر آئندہ کا لائحہ عمل خود طے کریں گے۔

اسی بارے میں