اورکزئی:سکیورٹی قافلے پر حملہ، ایک ہلاک

اورکزئی ایجنسی
Image caption اورکزئی ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف محدود کارروائی جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعہ میں ایک اور سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

فرنٹیئر کور کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کو لوئر اورکزئی ایجنسی کے علاقے گوئین میں اس وقت پیش آیا جب کلایہ سے مشتی کی طرف جانے والا سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ سڑک کے کنارے نصب ایک بم کا نشانہ بنا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ اہلکار نے مزید بتایا کہ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں سے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور بم دھماکوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق زیادہ تر واقعات میں بارودی سرنگوں یا ریموٹ کنٹرول بموں سے حملے کیے گئے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران اپر اور لوئی اورکزئی میں ہونے والے حملوں میں ایک کرنل سمیت سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے بھی دو کاروائیوں کے دوران متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان حملوں میں ایسے وقت شدت آ رہی ہے جب گزشتہ روز ہی لوئر اورکزئی سے آپریشن کی وجہ سے بےگھر ہونے والے درجنوں سکھ خاندان اپنے گھروں کو واپس پہنچے تھے جبکہ دیگر متاثرین کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ اورکزئی ایجنسی میں قریباً ڈیڑھ سال سے بیت اللہ گروپ کے طالبان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل کے مطابق آپریشن میں چھ سو پچاس شدت پسند اور پینسٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس دوران ایجنسی بھر سے کوئی بتیس ہزار خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں بیشتر علاقے شدت پسندوں سے صاف کرادیئے گئے ہیں یا وہ علاقہ چھوڑ کر کہنی اور منتقل ہوگئے ہیں تاہم حالیہ واقعات سے بظاہر لگتا ہے کہ شدت پسند بدستور علاقے میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں