برٹش فارن افیئرز کمیٹی کا دورہِ پاکستان

Image caption کمیٹی میں پارلیمنٹ کے گیارہ اراکین شامل ہیں جن کا تعلق تین سب سے بڑی سیاسی جماعتوں سے ہے۔

برطانوی ہاؤس آف کومنز کی فارن افیئرز کمیٹی کے اراکین نے پاکستان کا تین روزہ دورہ جمعرات مکمل کیا۔ وہ اس خطے سے متعلق برطانوی پالیسی کے تجزیے کے لیے حقائق جاننے کے مشن پر پاکستان آئے ہوئے تھے۔

اپنے دورے کے دوران کمیٹی نے مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی جن میں صدر آصف علی زرداری، ریاستی وزیر نواب زادہ عمادخان، فارن افیئرز پر قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی اور میڈیا اور سول سوسائٹی کے اراکین شامل ہیں۔

فارن افیئرز کمیٹی کے سربراہ رچرڈ اوٹاوے ایم پی نے اس موقع پر کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کمیٹی کو پاکستان کا دورہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہونے والی ملاقاتوں سے یہ ثابت ہوا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود مضبوط پارلیمانی روابط کے ذریعے دو طرفہ تعلقات مسلسل مضبوط ہورہے ہیں اور یہ بھی کہ پاکستان میں جمہوری عمل قائم رہنا کتنا ضروری ہے۔

’میں شکرگزار ہو ں کہ ہمیں طلباء کے ایک گروپ سے ملنے کا بھی موقع ملا جنھوں نے آف سکرین ایکسپی ڈیشنز میں حصہ لیا تھا جو تبادلے کا پروگرام ہے اور جس کا مقصد دونوں ملکوں کی نوجوان نسل کے درمیان آپسی تفہیم کو بہتر بنانا ہے۔‘

کمیٹی میں پارلیمنٹ کے گیارہ اراکین شامل ہیں جن کا تعلق تین سب سے بڑی سیاسی جماعتوں سے ہے۔ اس کے قیام کا مقصد پالیسی، انتظامیہ اور فارن اینڈ کومن ویلتھ آفس اور برٹش کونسل اور بی بی سی ورلڈ سروس سمیت اس سے متعلقہ مختلف سرکاری اداروں کے اخراجات کا جائزہ لینا ہے۔

کمیٹی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی تفتیش کے لیے موضوع کا خود انتخاب کرے۔ یہ کمیٹی تحریری اور زبانی شواہد اکٹھے کرتی ہے اور اپنی رپورٹ پیش کرتی ہے جس کا حکومت کو جواب دینا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں