مسلم لیگ کے پانچ دھڑوں کا اتحاد

پیر پگاڑہ
Image caption کوشش ہو گی کہ میاں نواز شریف بھی اس اتحاد میں شامل ہوں: پی پگاڑہ

پاکستان مسلم لیگ کے پانچ دھڑوں نے اتحاد قائم کر لیا ہے۔

متحدہ مسلم لیگ کے نام سے قائم اتحاد کے سرپرست اعلیٰ پیر پگاڑہ ہوں گے۔ اتحاد نے مشترکہ طور پر انتخابات لڑنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کراچی میں پیر پگاڑہ کی رہائش گاہ کنگری ہاؤس پر لیگی رہنماؤں کی ملاقات کے بعد مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ہم خیال، مسلم لیگ ضیا الحق اور مسلم لیگ عوامی کے اتحاد کا اعلان کیا گیا۔

پیر پگاڑہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کی قیادت میں ایک دس رکنی سٹیئرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے، جس میں حامد ناصر چٹھہ، سلیم سیف اللہ، صدرالدین شاہ راشدی، اعجاز الحق، مخدوم احمد محمود، شیخ رشید احمد، ہمایوں اختر اور جہانگیر ترین شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی تنظیم سازی کے علاوہ مسلم لیگ کے دیگر دہڑوں اور سیاسی جماعتوں سے شمولیت کے لیے رابطہ کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالات نے مسلم لیگیوں کو اکٹھا ہونے کے لیے مجبور کیا ہے۔ جب تک متحدہ مسلم لیگ کے قانونی تقاضے پورے ہوں اس وقت تک یہ اتحاد اور جماعتوں کی حیثیت برقرار رہے گی۔

پیر پگاڑہ کا کہنا تھا کہ ان کو اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئی شامل ہوتا ہے یا نہیں، تاہم وہ کوشش کریں گے کہ میاں نواز شریف بھی اس اتحاد میں شامل ہوں۔

اس سے قبل مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین بھی پیر پگاڑہ سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ پیر پگاڑہ کا کہنا تھا کہ چودھری شجاعت کے چھوٹے بھائی کا کوئی مسئلہ ہوگیا تھا اس لیے وہ نہیں آسکے مگر بعد میں وہ بھی شامل ہوجائیں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اہلسنت او الجماعت بھی اتحاد میں شامل ہوں گی کیونکہ وہ ان سے انیس سو اکہتر میں علیحدہ ہوئی تھی۔

پیر پگاڑہ کی جماعت مسلم لیگ فنکشنل موجودہ حکومت کا بھی حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا نمبر گیم سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ حکومت سے علیحدہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے متحدہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کے تحت انتخابات لڑنے اور حکومت سازی کے لیے کوشش کرنے کا بھی اعلان کیا۔

ان کے ساتھ موجود سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان تو کب کا ٹوٹ گیا، اب جو پاکستان ہے اسے بچانا ہے، اس کے لیے مسلم لیگ کا متحدہ ہونا ضروری ہے۔

شیخ رشید احمد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے دھوکہ اور زیادتی ہو رہی ہے، ملکی معشیت تباہ ہوچکی ہے۔ متحدہ مسلم لیگ میں شمولیت کے لیے سب کے لیے دروازہ کھلے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر پیر پگاڑہ اور ظفر اللہ جمالی کسی کے پاس چل کر جائیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ شامل نہ ہوں۔

سلیم سیف اللہ کا موقف تھا کہ لیگی دھڑے جب الگ ہوسکتے ہیں تو اکٹھے بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں۔ پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاالحق کے فرزند اعجاز الحق نے بھی ان کی تائید ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگیوں کے اتحاد کراتی رہی ہے مگر اس بار اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی مسلم لیگی دھڑوں کے انضمام کی کوشش کی گئی تھی۔ باقی دھڑے تو اس میں شامل ہوئے مگر پیر پگاڑہ نے اپنی جماعت کی حیثیت برقرار رکھی تھی۔

اسی بارے میں