قرضوں کی معافی، نوٹس جاری

سپریم کورٹ نے کروڑوں روپے کے قرضے معاف کروانے والی شوگر مل اور ٹیکسٹائل مل کے ذمہ داروں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مختلف سرکاری بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی طرف سے اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

سٹیٹ بینک کے وکیل اقبال حیدر نے عدالت میں سٹیٹ بینک کے گورنر شاہد کاردار کا خط پڑھ کر سُنایا جس میں کہا گیا ہے کہ آٹھ سال قبل سرکلر 29 جاری کرنے کا مقصد مختلف بینکوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کچھ صنعتوں کے قرضے صحیح وجوہات کی بنا پر معاف کیے گئے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب اور اقتصادی بحران کی وجہ سے مزید قرضے بھی معاف کیے جانے کا امکان ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر قرضہ معاف کیے جانے والے مقدمے کے پیچھے ایک اپنی ہی کہانی ہے۔ انہوں نے سٹیٹ بینک کے وکیل سے کہا کہ ملک پر رحم کریں اور معاف کیے گئے قرضے واپس لائیں۔

اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ عدالت اس ضمن میں جوڈیشل کمیشن قائم کرے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک اس ضمن میں ایک تحریری درخواست عدالت میں پیش کرے۔

عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ محب شوگر مل اور انڈس ٹیکسٹائل مل کے ذمے کتنے قرضے تھے جو معاف کیے گئے۔ اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ محب شوگر مل کے ذمہ 88 کروڑ روپے تھے جبکہ انڈس ٹیکسٹائل کے ذمہ بھی معاف کیے گئے قرضے کروڑوں میں ہیں۔

عدالت نے ان ملوں کے مالکان کی سالانہ آمدنی سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا اور اس ضمن میں متعلقہ افراد کو نوٹسز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

سماعت کے دوران ریڈکو کمپنی کے ایک ارب دس کروڑ روپے کا معاملہ بھی اُٹھایا گیا۔

عدالت نے مذکورہ کمپنی کے ذمہ داروں سے کہا کہ وہ اُن بینکوں کے اہلکاروں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے معاملات طے کریں جنہوں نے اُن کے قرضے معاف کیے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرضے معاف کرنے کے سلسلے میں قواعد وضوابط کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اس کے علاوہ قرضوں کی واپسی کے حوالے سے مختلف بینکوں کے اہلکاروں نے امیر اور با اثر لوگوں پر اُس طرح دباؤ نہیں ڈالا جس طرح ایک غریب آدمی سے قرضہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

عدالت نے گُزشتہ دو سال کے دوران معاف کیے گئے قرضوں کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا اور اس از خود نوٹس کی سماعت سات دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں