بم دھماکے کے ملزمان رہا کر دیے گئے

فرنٹیئر کانسٹیبلری
Image caption گزشتہ سال فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کیمپ پر حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے

راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے ان پانچ ملزمان کو سنیچر کو بری کر دیا جن پرگذشتہ سال اسلام آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری یعنی ایف سی کے رہائشی کیمپ اور پولیس کی سپیشل برانچ کے دفتر پر حملوں کا الزام تھا۔ ان خود کش حملوں میں نو افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے۔

ملزمان کے ایک وکیل مظہر اکرم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان ملزمان کے خلاف اڈیالہ جیل میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ڈیڑھ سال تک مقدمہ زیر سماعت رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس دوران استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم نہیں کرسکا جس کی وجہ سے عدالت نے انھیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔

ان پانچوں ملزمان فدا اللہ، خرم شہزاد اور خیراللہ، عبیداللہ اور اویس پر چار اپریل سنہ دو ہزار نو کو اسلام آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے رہائشی کیمپ اور گذشتہ سال ہی تیئس مارچ کو اسلام آباد میں ہی ستارہ مارکیٹ میں پولیس کی سپیشل برانچ کے دفتر پر خود کش حملوں کا الزام تھا۔

فرنٹیئر کانسٹیبلری کے رہائشی کیمپ پر چار اپریل دو ہزار نو کو حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

Image caption ایف سی کیمپ پر حملہ کے پانچوں ملزمان کو رہا کر دیا گیا

اس حملے کے کوئی دو ہفتے پہلے تیئس مارچ کو اسلام آباد میں ہی ستارہ مارکیٹ میں پولیس کی سپیشل برانچ کے دفتر پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ معتدد زخمی ہوگئے تھے۔

اسلام آباد پولیس نے چار ملزمان خرم شہزاد، عبید اللہ، خیر اللہ اور اویس کو بیس اپریل سنہ دو ہزار نو کو گرفتار کیا تھا جبکہ فدا اللہ کی گرفتاری گذشتہ سال یکم جون کو عمل میں لائی گئی تھی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ تین سال کے دوران شدت پسندی کے سات اہم واقعات میں گرفتار ہونے والے افراد کو ٹھوس شواہد نہ ہونے کی بنا پر بری کر دیا گیا تھا۔

ان میں میریٹ ہوٹل پر حملہ، جی ایچ کیو کے دروازے پر ہونے والا خود کش حملہ، آئی ایس آئی کے اہلکاروں کی بس پر حملہ، پاکستان کی فوج کے سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ پر ہونے والا خود کش حملہ، کامرہ میں پاکستان کی فضائیہ کی بس پر ہونے والا خود کش حملہ اور ڈنمارک کی سفارتخانے پر حملہ کرنے والے بھی شامل ہیں۔

ان واقعات میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے اور ہلاک ہونے والوں میں سے اکثریت کا تعلق فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تھا۔

اسی بارے میں