تیس اکتوبر یاد رہے گا

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی
Image caption ’اپنی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے‘

اٹھارہ سو چورانوے میں فرانسیسی فوج کے کپتان ڈریفس کو قومی راز جرمنوں کے حوالے کرنے کے جرم میں کورٹ مارشل کر کے عمرقید کی سزا سنائی گئی۔لیکن فردِ جرم نقائص سے اتنی بھرپور تھی کہ ہر سوچنے والے فرانسیسی کے دل میں یہ مقدمہ پھانس کی طرح اٹک گیا۔

ایمائیل زولا جیسا ادیب فرانسیسی ضمیر کی آواز بن گیا اور عدالتی انتظامیہ کو دس برس بعد کیپٹن ڈریفس کو باعزت اپنے عہدے پر بحال کرنا پڑا۔

سوویت یونین میں سن تیس کے عشرے میں جوزف سٹالن نے ’عظیم تطہیر‘ کے نام سے جبری اعترافِ جرم کا سلسلہ شروع کر کے اپنے ہی ہم جماعت سیاسی مخالفین کو کامیابی سے ٹھکانے لگانے کا کام شروع کیا۔ یوں سٹالن کی موت تک ملک میں قبرستان جیسا سکوت طاری ہوگیا۔مگر سٹالن کے جانشین نکیتا خروشچیف نے سن چھپن میں کیمونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس میں سٹالن کی ’عظیم تطہیر‘ کی پالیسی کو ایک عظیم غلطی قرار دیا۔

یوں سوویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی نے اپنا ضمیر ٹٹولنے کا کام شروع کیا اور اگلے بتیس برس کے دوران سٹالن کے راندہ درگاہ کیمونسٹ رہنماؤں کو بعد از مرگ تاریخ کا ریکارڈ درست کرنے کے لیے پوری تکریم کے ساتھ بحال کر دیا گیا۔وہ دوسری بات ہے کہ سوویت قیادت کی نئی نسل نے نئی غلطیاں کرنی شروع کر دیں۔

سنہ چوہتر میں اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ میں سیمور ہرش کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ سی آئی اے ایک شترِ بے مہار میں تبدیل ہوچکی ہے۔ وہ نہ صرف غیرملکی رہنماؤں کو قتل کرنے کے کام پر مامور ہے بلکہ اندرونِ ملک امریکی شہریوں کی بلا اجازت جاسوسی میں بھی ملوث ہے۔

اس مضمون کی اشاعت کے بعد امریکی سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹی حرکت میں آگئی اور اس نے سینٹر فرینک چرچ کی قیادت میں سی آئی اے کے ماضی پر کھل کر اظہارِ تاسف کیا۔ ان غیرملکی رہنماؤں کا نام ریکارڈ پر لایا گیا جنہیں سی آئی اے نے غیر قانونی طور پر قتل کیا یا کرنے کی کوشش کی۔

چرچ کمیٹی نے سی آئی اے کو لگام دینے کے لیے دور رس اصلاحات تجویز کیں اور صدر فورڈ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے غیرملکی رہنماؤں کو جسمانی طور پر راستے سے ہٹانے کے عمل کو غیرقانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا۔ سی آئی اے پر یہ پابندی نائن الیون تک برقرار رہی۔

سنہ چھہتر میں ماؤزے تنگ کی وفات تک چین میں ان کے کسی قول یا پالیسی پر انگشت نمائی کرنا اگر جسمانی نہیں تو اپنی سیاسی موت کوضرور دعوت دینے کے برابر تھا۔لیکن پھر دینگ ژاؤ بینگ کا دور آیا۔

پہلی دفعہ اعتراف کیا گیا کہ سنہ پچاس کی دہائی کی ’ عظیم چھلانگ‘ پر مبنی اقتصادی پالیسی اور ساٹھ کی دہائی کا ’عظیم ثقافتی انقلاب‘ بہت بڑی غلطیاں تھیں۔لہٰذا ماؤ کی پالیسیوں کو رفتہ رفتہ سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کے فلسفے سے بدلا گیا اور اس تبدیلی کے سبب چین آج بتیس برس بعد تیسری بڑی عالمی اقتصادی و سیاسی طاقت ہے۔

تیس اکتوبر دو ہزار دس پاکستان کی تاریخ میں اس لحاظ سے یاد رکھا جائے گا کہ پیپلز پارٹی کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں تعلیمی اداروں کو قومیانے کی پالیسی کو ایک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی حکومت نے اپنی ہی پارٹی کے گزشتہ ادوار کی کوئی غلطی تسلیم کی ہو۔

فراغ دلی کا یہ مظاہرہ ایک ایسے سماج میں اور بھی اہم ہے جہاں ہر کوئی اجتماعی و انفرادی سطح پر اپنی ناکامیوں یا غلطی کا ذمہ دار آنکھ بند کرکے دوسرے کو ٹھہرانے کا عادی ہے۔

ذہنی بلوغت کی جانب ایک بڑا قدم مبارک ہو۔

اسی بارے میں