کوئٹہ: فرقہ وارانہ واقعات کے خلاف احتجاج

کوئٹہ، احتجاج
Image caption احتجاج کے موقع پر سخت سیکورٹی تھی

ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے زیر اہتمام اتوار کو کوئٹہ شہر میں فرقہ وارانہ دھشت گردی، لاقانونیت، بدامنی اور اغواء برائے تاوان کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے۔

اس مظاہرے میں بڑي تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے تھے جس پر حکومت اور دہشت گردوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نےصو بائی حکومت اور کوئٹہ کی انتظامیہ کے خلاف بھی نعرہ بازی کی ۔

اس موقع پر حکومت کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے مرکزی رہنماء عزیزاللہ ہزارہ نے الزام لگایا کہ حکومت کوئٹہ میں دہشت گردوں میں کی سرپرستی کررہی ہے جس کے باعث آئے روز کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اوراغواء برائے تاوان نے واقعات ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ قوم کو اب حکومت اور انتظامیہ سے امن وامان برقرار رکھنے کی کوئی توقع نہیں رہی کیونکہ دہشت گردوں کو حکومت میں شامل بعض بااثر افراد کی سرپرستی حاصل ہے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے ضلعی سیکرٹری سردار ساحل ہزارہ نے کہا دہشت گردوں کو آج تک کسی عدالت سے سزانہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے فرقہ وارارنہ دہشت گردی میں ملوث افراد کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔

مقررین نے بلوچستان کے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ کوئٹہ شہر میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور عوام کو بھی ایسے لوگوں کی فوری نشاندہی کرنی چاہے جو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں جاکر رپوش ہوجاتے ہیں ۔

اٹھائیس اکتوبر کو کوئٹہ شہرمیں بعض نامعلوم افراد نے شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر حاجی علی اکبر سمیت چار افراد کو گولی مارکر ہلاک کیا تھا ۔

لشکر جھنگوئ کے ترجمان علی شیر حیدر نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔

یادرہے کہ گذشتہ تین برس میں بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے نتیجے میں اب تک پانچ سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ ان واقعات میں سے اکثریت کی ذمہ داری کالعدم سنی تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں