پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتے ہوئے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں سات سے نو فیصد تک اضافے کا اعلان کیا ہے جو کہ یکم نومبر سے ملک بھر میں نافذالعمل ہو گا۔

اوگرا کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں تیل کی مصنوعات میں گزشتہ مہینے شدید اضافہ ہوا ہے جس کے پیش نظر پاکستان میں پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں پر نظر ثانی کرنی پڑی ہے۔

اس اعلامیے کے مطابق موٹر سپرٹ کی قیمت کو جو کہ چھیاسٹھ روپے نناوے پیسے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا تھا اب بڑھا کر بّہتر روپے چھیانوے پیسے کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اس کی قیمت میں آٹھ اعشاریہ نو فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ہائی آکٹین برینڈنگ کمپونینٹ جو کہ اناسی روپے چھپن پیسے فی لیٹر کے حساب سے فروخت اس کی قیمت اب بڑھا کر چھیاسی روپے سڑسٹھ پیسے کر دی گئی ہے۔ اس کی قیمت میں بھی آٹھ اعشارہ نو فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

مٹی کی تیل کی نئی قیمت ستر روپے پچانوے پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جو کہ پینسٹھ روپے اسی پیسے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا تھا۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت باسٹھ روپے چونتیس پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر چھیاسٹھ روپے اکسٹھ پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ڈیزل میں چھ اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

عوامی حلقوں کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہمیشہ کی طرف روزمرہ کے استعمال کی تمام اشیاء کی قیمتوں پر پڑے گا اور مہنگائی کی ایک نئی لہر غریب عوام کو اپنی لپیٹ میں لیے لے گی۔

پاکستان میں حالیہ سیلاب کی وجہ سے وسیع رقبے پر موجود کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ اجناس کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوا تھا۔ اب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے غذائی اجناس کی نقل و حمل پر ہونے والے اخراجات مزید بڑھ جائیں گا جس کا بوجھ براہراست صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔