لاش قبر سے نکال دی گئی

احمدیوں پر حملے: فائل فوٹو
Image caption جون میں لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے وسطی پنجاب کے ایک گاؤں میں لوگوں کے احتجاج کے بعد ایک احمدی کی لاش کو قبر سے نکلوا کر دوسرے قبرستان میں دفنایا گیا ہے۔

یہ واقعہ ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے گاؤں چک چوبیس میں پیش آیا ہے۔

احمدیہ تنظیم کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ 45 سالہ شہزاد وڑائچ کو گاؤں کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھاجو چک 24، 19 اور قرب و جوار کے دوسرے دیہات کا مشترہ قبرستان ہے لیکن علاقے کے بعض مسلمان علماء نے اس پر احتجاج کیا جس پر پولیس نے متوفی کے ورثاء کو حکم دیا کہ وہ لاش کو احمدیوں کے قبرستان میں منتقل کریں۔

پولیس کے حکم کے بعد ان کی قبر کو اکھاڑا گیا اور ان کی میت کو دور واقع احمدیوں کے ایک قبرستان میں دفن کیا گیا۔

سلیم الدین نے بتایا کہ شہزاد وڑائچ کے والدین مسلمان تھے لیکن وہ، ان کے بھائی امتیاز وڑائچ اور دادا دادی احمدی تھے اور ان کے خاندان کے بعض لوگ اسی قبرستان میں دفن ہیں۔

سرگودھا کے ریجنل پولیس افسر ڈی آئی جی جاوید اسلام نے ہمارے نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اصل میں شہزاد وڑائچ کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا گیا تھا جو کہ قانوناً جائز نہیں ہے اس پر مسلمانوں نے اعتراض کیا جس پر انہوں نے میت نکلوا کر اپنے قبرستان میں دفنا لی۔ اس طرح افہام و تفہیم سے یہ مسئلہ حل ہوگیا۔‘

اس سوال پر کہ پولیس کو کس نے شکایت کی، ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تو اس وقت پتہ چلا جب انہوں نے اعتراض کیا۔ گاؤں والوں نے کہا کہ جی احمدی مسلمانوں کے قبرستان میں نہیں دفنایا جاسکتا اور یہ بات ان کی صحیح ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض سخت گیر مذہبی تنظیموں نے اس تدفین کو ایشو بنایا تھا جس پر پولیس نے متوفی کے ورثاء پر دباؤ ڈال کر لاش قبرستان سے نکلوائی، ڈی آئی جی جاوید اسلام کا کہنا تھا کہ پولیس نے ورثاء پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’مجلس ختم نبوت والے ہمیشہ اعتراض کرتے ہیں اور ان کا اعتراض غلط بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے عیسائیوں کے قبرستان میں مسلمان اور مسلمانوں کے قبرستان میں کوئی عیسائی نہیں دفنایا جاسکتا۔‘

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں اس بات پر رائے نہیں دینا چاہتا کہ یہ غیر اخلاقی حرکت ہے یا نہیں ہے۔ میں تو قانونی بات کرنا چاہتا ہوں۔ قانون میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی اجازت نہیں ہے۔‘

احمدیوں کی تنظیم کے ترجمان سلیم الدین واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے کہا ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کی قبر کشائی کا یہ انتیسواں یا تیسواں واقعہ ہے۔ ’(احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے) جو لوگ زندہ ہیں ان کے ساتھ تو ظلم ہوتا ہے لیکن یہ مُردوں کو بھی نہیں بخشتے۔ میت کا احترام تو ویسے ہی ہمارے مذہب میں بھی ہے اور انسانیت کا تقاضہ بھی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں انتظامیہ کا رویہ شروع سے جانبدارانہ رہا ہے۔

اسی بارے میں