’گوادر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے اہلکار لاپتہ‘

Image caption ان کے شوہر کا کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ سے تعلق نہیں ہے: ہزاری بی بی

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے گوادر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے ایک افسر محمد عارف بلوچ لاپتہ ہوگئے ہیں۔

ان کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ تیس سالہ محمد عارف بلوچ کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی حراست میں لیا ہے۔

محمد عارف بلوچ کی بیوی ہزاری بی بی، بھائی محمد عابد اور والدہ نے کراچی میں منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ محمد عارف گوادر میں ایک روڈ حادثے میں زخمی ہوگئے تھے اور علاج کی غرض سے کراچی آئے ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ’ اکتیس اکتوبر کو کراچی کے علاقے گارڈن میں واقعے ان کے فلیٹ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا اور زبردستی فلیٹ میں داخل ہوگئے، تلخ کلامی کے بعد انہوں نے عارف کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف باندھے اور سر پر ایک سیاہ غلاف ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔‘

ہزاری بی بی نے بتایا کہ’ محمد عارف نے جسم پر صرف ایک بنیان اور پاجامہ پہنا ہوا تھا اہلکار انہیں اسی حالت میں اٹھا کر لے گئے کپڑے تبدیل کرنے کی بھی مہلت نہیں دی۔‘

ان کے مطابق جب وہ علاقے کے سولجر بازار تھانے پر پہنچے تو پولیس نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور ایف آئی آر درج کرنے سے بھی انکار کردیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ محمد عارف بلوچ کا تعلق گوادر سے ہے، وہ گزشتہ تین سالوں سے گوادر ڈولپمنٹ اتھارٹی سے منسلک ہیں اور گزشتہ سال ہی ان کی شادی ہوئی تھی۔

عارف کی بیوی کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کا کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ سے تعلق نہیں ہے۔

دوسری جانب بلوچ یونٹی کانفرنس کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کا بلوچوں کے خلاف آپریشن بغیر کسی وقفے سے جاری ہے صرف کراچی میں گزشتہ کچھ عرصے میں عارف سمیت چار افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے۔

تنطیم کا دعویٰ ہے کہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے تین اراکین یاسین بلوچ، نعمان بلوچ اور طارق کریم کو ایک ساتھ گرفتار کیا گیا جو ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اسی بارے میں