سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن ستعفی

سپریم کورٹ
Image caption جسٹس قزلباش نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط میں استعفے کا بتایا ہے

سپریم کورٹ کے سابق جج علی حسین قزلباش نے سپریم جوڈیشل کونسل کی رکنیت سے استعفی دے دیا ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ علی حسین قزلباش کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جوڈیشل کمیشن کا رکن نامزد کیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ علی حسین قزلباش نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو جو سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خرابی صحت کی وجہ سے وہ یہ ذمہ داریاں ادا نہیں کرسکیں گے۔

جسٹس ریٹائرڈ علی حسین قزلباش نے اپنے خط میں چیف جسٹس کی جانب سے اُن پر اعتماد کرنے کا شکریہ ادا کیا۔

چیف جسٹس نے جسٹس ریٹائرڈ قزلباش کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے اور نئے رکن سے سپریم کورٹ کے دو سینیئر جج صاحبان سے مشاورت شروع کردی ہے۔

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چھ نومبر کو طلب کیا ہے جس میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔

اُدھر لاہور میں سپریم کورٹ کی رجسٹری برانچ میں پاکستان بار کونسل کے نامزد رکن خالد رانجھا کی نامزدگی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ارکان کی تعداد سات ہے جس میں چیف جسٹس اس کونسل کے چیئرمین ہیں اور سپریم کورٹ کے دو سینیئر جج، وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کے نامزد کردہ رکن اس کے ارکین ہیں جبکہ ایک رکن کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر کرتے ہیں۔

کونسل کی جانب سے کسی جج کا نام تجویز کرنے کے بعد اس کو منظور یا مسترد کرنے کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ یہ کمیٹی آٹھ ارکان پر مشتمل ہے جس میں چار ارکان حزب اقتدار اور چار حزب اختلاف سے ہوں گے۔

اسی بارے میں