وزیرستان: تین ڈرون حملوں میں گیارہ ہلاک

Image caption انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کی شناخت نہیں ہو سکی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق بدھ کو تین ڈرون حملوں میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں چھ غیرملکی افراد ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق پہلا حملہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے تین کلومیٹر دور قطب خیل کے مقام پر ہوا۔

پاکستان:امریکی ڈرون حملوں میں تین گناہ اضافہ: خصوصی ضمیمہ

انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ڈرون نے ایک گاڑی پر دو میزائل داغے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔

اس حملے میں ایک اور گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ اس گاڑی میں سوار تین افراد زحمی ہوئے ہیں۔

دوسرا حملہ تحصیل میر علی کے گاؤں عیسیٰ خیل میں ہوا۔ یہ حملہ بھی ایک گاڑی پر کیا گیا جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔یہ تمام افراد مقامی تھے۔

تیسرا حملہ تحصیل دتہ خیل کے گاؤں پایو خیل میں دوبارہ ایک گاڑی ہی پر کیا گیا جس میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ اروں افراد غیر ملکی تھے۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند ماہ سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم ایک ہفتے کے دوران شمالی وزیرستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا حملہ ہے۔

ان حملوں میں زیادہ تر حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جن میں بیت اللہ گروپ کے بھی کئی جنگجووں مارے گئے ہیں۔ مقامی طالبان کے علاوہ غیر مُلکی جنگجو اور پنجابی طالبان بھی نشانہ بنے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں جنوبی و شمالی وزیرستان دو ایسے قبائلی علاقے ہیں جہاں غیرمُلکی جنگجو اور مقامی طالبان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ اس لیے سب سے زیادہ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی یہی دو قبائلی علاقے ہیں۔

اسی بارے میں