’جب تک زندہ ہوں تم کشمیر نہیں جاؤ گے‘

Image caption ’تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک مذہبی تنظیم کے ساتھ ٹریننگ حاصل کی‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک بار پھر الجہاد الجہاد کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ برسوں بعد دیواروں پر جہاد کے حق میں نعرے تحریر کیے جارہے ہیں جبکہ مقامی حکومت نے وال چاکنگ پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور حکومت میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار پاکستان کی جہادی تنظیموں کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ان تنظیموں نے اپنی سرگرمیاں محدود کردی تھیں۔

لیکن کچھ عرصے سے یہ تنظیمیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دوبارہ منظر عام پر آئیں اور وادی کشمیر میں جاری حالیہ عوامی تحریک کے بعد ان کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

’جب تک زندہ ہوں تم کشمیر نہیں جاؤ گے‘: آڈیو

کالعدم تنظیموں کے رہنما پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستان مخالف اجتماعات میں جہاد کا درس دیتے ہیں۔

ہندوستان کی فوج کے خلاف جہاد کی پکار کچھ لوگوں کو متاثر بھی کررہی ہے۔

ایک مثال اُس پچیس سالہ کشمیری نوجوان کی ہے جن کی شناخت ظاہر نہیں کی جارہی ہے۔ اس نوجوان نے اسی سال انجئینرنگ کی تعلیم مکمل کی ہے۔

’میں لاہور میں انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصے وہاں رہا اور پھر میں نے ایک مذہبی تنظیم کے ساتھ ٹریننگ حاصل کی۔‘

انہوں نے کہا ’میں نے علماء کے پروگرام میں شرکت کی اور اس تنظیم کےساتھ منسلک ہوا۔ میں نے تین مہینے کی ٹریننگ کی۔‘

یہ نوجوان تقریباً دو ماہ پہلے تربیت حاصل کرکے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنے گھر لوٹا ہے۔

اس نوجوان کے بقول کیمپ میں سینکڑوں نوجوان تربیت حاصل کررہے تھے جن میں زیادہ تر پاکستانی تھے اور ان میں بھی پنجابی لڑکوں کی اکثریت تھی۔

’کوئی بیس فیصد کشمیری نوجوان تھے جبکہ تقریباً دس فیصد کا تعلق دوسرے ملکوں سے تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس یونیورسٹی میں وہ زیر تعلیم تھے اس یونیورسٹی کے اور بھی طالب علم ٹریننگ کے لیے گئے تھے۔

’تنازعہ کشمیر کا حل بندوق میں ہے۔ باسٹھ سال مذاکرات کو آزمایا۔ ہمارے بھائیوں نے مجبور ہو کر بندوق اٹھائی اور ہم کلاشنکوف کے ذریعے کشمیر لیں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کو وادی کشمیر بھیجنے کا فیصلہ ان کی تنظیم کے امیر ہی کرسکتے ہیں۔ ’وادی کشمیر میں بھیجا جاسکتا ہے یا پاکستان میں اسلام کی تبلیغ یا پھر فلاحی کاموں کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔‘

اس نوجوان نے دعویٰ کیا کہ ان کے خاندان والے ان کے جہادی تنظیم میں شمولیت کے حق میں تھے۔ تاہم ان کی والدہ اور بھائیوں کا موقف اس کے بالکل برعکس ہے۔

اس نوجوان کی والدہ بیٹے کے فیصلے سے پریشان ہیں۔ ’میرے بیٹے نے اسلام کی تبلیغ پر جانے کی اجازت مانگی تھی جو میں نے خوشی سے دی تھی۔ لیکن اس کی گھر واپسی تک مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ جہادی تربیت کے لیے گیا تھا۔‘

’گھر واپسی پر میرے بیٹے نے مجھے بتایا کہ میں نے تربیت حاصل کی ہے اور میں واپس جانا چاہتا ہوں لیکن میں نے منع کردیا۔‘

میں نے اس سے کہہ دیا ’جب تک میں زندہ ہوں میں تمہیں کشمیر نہیں جانے دوں گی۔ وہ میرے بچے کو لے جائیں گے اور مروا دیں گے لیکن مجھے اپنا بچہ چاہیے۔ میں انھیں اپنا بچہ نہیں دوں گی اور میں اسے نہیں جانے دوں گی۔‘

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کسی تربیتی کیمپ کی موجودگی کی تردید کی۔

’کوئی عسکری تربیت نہیں ہورہی اور اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ عسکری تربیت دی جارہی ہے تو ہمیں فراہم کیا جائے۔ میں اس کا خیرمقدم کروں گا اور ہم کارروائی کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور ایسا پروپیگنڈہ نہ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ’میرے خیال میں جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ ایسا پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔‘

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم امان اللہ خان کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل زاہد حبیب شیخ پاکستان کے وزیر داخلہ کے بیان کو درست تسلیم نہیں کرتے۔

’اگر حکومت یہ بات کہہ رہی ہے کہ کوئی کیمپ نہیں ہے تو پھر لشکر طیبہ، جیش محمد اور اس طرح کی جو تنظیمیں ہیں، ان کے افراد کو دوبارہ آزاد کشمیر (پاکستان کا زیر انتظام کشمیر) سے مقبوضہ کشمیر (ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر) میں کیوں بھیجنا شروع کردیا ہے۔‘

انھوں کے بقول ’خفیہ اداروں کی نظر میں آئے بغیر وہ باہر نہیں جاسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خفیہ اداروں کی طرف سے مکمل عسکری اور مالی حمایت حاصل ہے۔‘

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں آزادی نواز رہنما سید علی شاہ گیلانی نے پاکستان کی کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’جہاں تک ہماری آج کی جدوجہد کا تعلق ہے یہ مقامی سطح پر جموں کشمیر کے عوام کی تحریک ہے اور پرامن طریقے سے ہی جاری رہے گی لیکن ہمیں ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے۔‘

’جہادی تنظیموں سے ہم کہیں گے وہ ہمارے لیے صرف دعا کریں اور اس مرحلے پر وہ اپنی سرگرمیاں یہاں جاری نہ رکھیں۔ ہمیں جہادی سرگرمیوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘

تنازعہ کشمیر گزشتہ ساٹھ برس سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حل طلب ہے۔

وادی کشمیر میں ہندوستان کی فوج کی طرف سے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو کشمیر میں پاکستان کے مبینہ کردار پر بھی سوال اٹھارہے ہیں۔

اسی بارے میں