سیلاب کی ایک اور دردناک کہانی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں تقریباً تین ماہ پہلے آنے والے تباہ کن سیلاب نےجہاں ہزاروں گھروں کو اجاڑ دیا اور لاکھوں افراد دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے وہاں اس سے جڑی ہوئی کچھ دردناک کہانیوں نے بھی جنم لیا ہے ۔

ایسی ہی ایک دردناک کہانی ضلع چارسدہ کے شب قدر کےگاؤں اٹکئی سے تعلق رکھنے والے واپڈا کی ایک لائن مین بشیر خان کی ہے جو بجلی کا کرنٹ لگنے سے دو ٹانگیں اور ایک بازو گنوا کر ساری زندگی کےلیے معزور ہوچکے ہیں۔

جس دن بشیر خان اپنی ٹانگیں اور بازو گنوا بیٹھا اسی دن اس پر ایک اور طوفان یہ آیا کہ سیلاب میں اس کا چھوٹا سا کچا مکان بھی بہہ گیا جس سے مسائل نے اسے ہر طرف سے گھیرلیا ہے۔

واپڈا ہاؤس ہپستال پشاور میں زیرِ علاج بشیر خان پچھلے تین ماہ سے ملک کے مختلف ہسپتالوں سے علاج کراتا ہوا یہاں پہنچا ہے اور اب وہ نئے سرے سے بظاہر اپنی معزور زندگی شروع کرنے کےلیے اپنے زخموں کے بھرنے کے انتظار میں ہیں۔

بشیر خان کا کہنا ہے کہ انتیس جولائی کوجب سیلاب آیا تو وہ شب قدر گاؤں میں ایک کھمبے پر چڑھ کر بجلی ٹھیک کررہا تھا کہ اس دوران کسی ساتھی کی غلطی کے باعث بجلی چالو ہوگئی اور اسے گیارہ ہزار بجلی کا کرنٹ لگا۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اتنا شدید تھا کہ وہ ہوا ہی میں کھمبے سے لٹک گیا اور بعد میں دوستوں نے بڑی مشکل سے کھمبے سے نیچے اتارا۔

’ مجھے جب ہوش آیا تو میری زندگی ہی اجڑ گئی تھی اور میرا بازو ہپستال پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے کاٹ دیا تھا جب کہ دو ٹانگیں بعد میں ایک ماہ کے دوران کاٹ دی گئی، اب میرا صرف ایک دایاں ہاتھ صحیح حالت میں کام کرتا ہے جبکہ میرے جسم کے دیگر حصوں پر بھی زخم آئے ہیں۔‘

ان کے بقول ’چند دنوں کے بعد جب میں تھوڑا سنبھلا ہی ہوا تھا کہ تو بھائیوں نے یہ بری خبر بھی سنا دی کہ میرا مکان بھی سیلاب کے پہلے ہی روز گر گیا تھا اور دو کمروں پر مشتمل مکان میں ایک کمرہ اور چاردیورای مکمل طورپر تباہ ہوچکی ہے اب مکان کا صرف ایک کمرہ رہ گیا ہے۔‘

بشیر خان کا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے بتایا جاتا ہے۔ ان کی چار بیٹیاں ہیں جن میں دو بیٹیاں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والی ہیں۔ ان میں سولہ سالہ نازمہ بی بی اور چودہ سالہ اعظمی شامل ہیں جبکہ دو دیگر بیٹیاں نو اور پانچ سال کی ہیں۔

چھیالیس سالہ بشیر خان کے دو بھائی بھی ہیں جو سب ان سے عمر میں چھوٹے ہیں اور دونوں بھائیوں کا کوئی خاص روزگار نہیں بلکہ روزانہ کے دیہاڑی پر کام کرتے ہیں۔

Image caption چھیالیس سالہ بشیر خان کے دو بھائی بھی ہیں جو سب ان سے عمر میں چھوٹے ہیں اور دونوں بھائیوں کا کوئی خاص روزگار نہیں

بشیر خان کے مطابق بھائیوں میں مالی طور پر وہ سب سے خوشحال تھے جس کی وجہ سے وہ کبھی کھبار اپنے بھائیوں کی مالی مدد بھی کرتے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اب تو وہ سب بھائی ایک قسم کے بے روزگار ہوگئے ہی کیونکہ باقی بھائی ان کی دیکھ بھال کےلیے پچھلے تین ماہ سے ہسپتال میں موجود ہیں۔

بشیر خان کے بقول ’میری بیٹیاں جب مجھے ہسپتال دیکھنے آتی ہیں تو پھر میں اپنے آنسو نہیں روک پاتا اور روتا ہی جاتا ہوں روتا ہی جاتا ہوں یہاں تک کہ میری بری حالت ہوجاتی ہے اور اسی طرح میری بیٹیوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔‘

انہوں نے بڑے افسردہ اور رونے کے انداز میں کہا کہ ’اب تو میں اس بات کے انتظار میں ہوں کہ جب مجھے ہسپتال سے فارغ کیا جائے گا تو اس کے بعد میری زندگی کیسے ہوگی، میرے پوری جسم میں صرف میرا ایک ہاتھ کام کرتا ہے باقی جسم کے تمام حصے ناکارہ سمجھ لیں، تو یہ کیسی زندگی ہوگی کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ اس واقعے کو پیش ہوئے تین ماہ سے زائد ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک اسے دیکھنے اس کے محکمے کا ایکسئین آیا ہے اور نہ ایس ڈی او۔ ان کے بقول ان کے محکمے کی طرف سے اس کا علاج ضرور کرایا جا رہا ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی امداد نہیں کی گئی ہے۔ بشیر خان نے مزید بتایا کہ ابھی تک ان کے دوست اور احباب ہی مالی تعاون کرتے رہے ہیں اور کچھ اپنے محکمے سے قرض لیا ہوا ہے۔