شاہ پور ویلی کی موت !

الپوری میں سیلاب متاثرین

بی بی سی اردو کے وسعت اللہ خان پاکستان میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کا احوال ایک ڈائری کی صورت میں بیان کر رہے ہیں۔ زیرِ نظر تحریر اس سلسلے کی انچاسویں کڑی ہے۔

منگل پانچ اکتوبر ( الپوری)

شانگلہ کا ضلعی ہیڈ کوارٹر الپوری تنگ وادی کے سبب ٹیڑھی میڑھی لمبائی میں آباد ہے۔لوگ آزادی سے بغیر نمبر پلیٹ کی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلاتے ہیں۔جو پراڈو کراچی میں پچیس لاکھ کی ملتی ہے ۔وہی شانگلہ میں چھ لاکھ روپے میں بغیر کاغدات کے دستیاب ہے۔یہ سلسلہ میں بلوچستان سے لے کر سوات اور اب شانگلہ تک دیکھتا آرہا ہوں۔ بڑا عجیب لگتا ہے کہ ایک شخص جو کراچی اور لاہور میں موٹر سائیکل یا چنجی رکشہ مشکل سے افورڈ کرسکتا ہو وہی شخص ان پہاڑی علاقوں میں زیرو میٹر کرولا بطور ٹیکسی چلا رہا ہو۔دور افتادگی ، دشوار گذاری ، نارسائی اور پسماندگی کے بھی اپنے مزے ہیں۔

آج میری ملاقات صحافی خالد خان نے شانگلہ کے جواں سال ڈی سی او محمد ایاز سے کروائی۔ان سے اس طرح کی معلومات میسر آئیں۔

سیلاب ڈائری: خصوصی ضمیمہ

Image caption شانگلہ میں طغیانی اور پہاڑی تودے گرنے سے ایک سو ساٹھ افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے لگ بھگ جاں بحق ہوئے

’ شانگلہ ضلع کی دو تحصیلیں یعنی الپوری اور پورن اٹھائیس یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ضلع کی آبادی لگ بھگ چھ لاکھ ہے۔اٹھائیس جولائی تا چھ اگست ہونے والی بارشوں اور طغیانی نے اسی فیصد جانی و مالی نقصان چار یونین کونسلوں یعنی پیرخانہ ، کس کانہ ، داموڑی اور شاہ پور میں کیا۔اس نقصان کا بنیادی سبب دو بڑے پہاڑی نالے یعنی غربن خواڑ اور خان خواڑ بنے۔جو کروڑہ کے مقام پر یکجا ہو کر ایک چھوٹے دریا میں بدل جاتے ہیں اور پھر یہ دریا نیچے بشام سب تحصیل میں دریائے سندھ میں جاگرتا ہے۔ دونوں پہاڑی نالوں پر بنے ہوئے چھ کنکریٹ اور چھبیس عارضی پل ختم ہوگئے۔کچھ مقامات پر فوج نے سٹیل کے عارضی پل نصب کیے ہیں جس کے بعد ہی شانگلہ کا رابطہ بشام تک شاہراہ ریشم سے اٹھائیس دن بعد بحال ہو پایا۔ورنہ تو حال یہ تھا کہ الپوری سے بشام تک بتیس کلومیٹر سڑک کا ٹکڑا پہاڑی تودوں کے سبب بالکل ناقابلِ استعمال ہوچکا تھا۔واحد رابطہ منگورہ کے ساتھ رہ گیا تھا۔لیکن یہ رابطہ بھی کسی کام کا نہ تھا کیونکہ خود سوات کا بیشتر علاقہ لگ بھگ تین ہفتے تک کٹا رہا۔

شانگلہ میں طغیانی اور پہاڑی تودے گرنے سے ایک سو ساٹھ افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ تین ہزار سے زائد مکانات مٹ گئے۔ساڑھے چار ہزار مکانات جزوی تباہ ہوئے۔تقریباً پانچ سو کلومیٹر کچے راستے اور پکی سڑکیں برباد ہوئیں۔اکسٹھ تعلیمی ادارے اور چار صحت مراکز ختم ہوئے۔واٹر سپلائی کی ڈھائی سو میں سے ایک سو تیس سکیمیں تباہ ہوگئیں۔ساڑھے نو ہزار ایکڑ پر کاشت فصلیں مٹ گئیں۔شانگلہ میں موبائل فون سروس نہیں ہے۔ڈیجیٹل فون بھی بارہ سال پہلے متعارف ہوا۔اب فون لائنیں بہنے کے سبب لینڈ لائن سروس بھی بیشتر علاقوں میں معطل ہے۔

چونکہ پہاڑی وادیاں کٹ چکی تھیں لہٰذا ان وادیوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک خوراک اور بنیادی رسد پہنچانے کے لیے لگ بھگ پچاس خچروں کی ٹرین چلائی گئی۔ راستہ اتنا دشوار تھا کہ دو ہزار روپے کی خوراک اور اشیائے ضرورت کا ایک بڑا پیک متاثرین تک پہنچتے پہنچتے چار ہزار روپے میں پڑا۔اب تک دو این جی اوز یعنی کیتھولک ریلیف سروس اور این سی ایچ ڈی نے سردیاں عروج پر آنے سے پہلے پہلے تیرہ سو پچاس عارضی گھر بنا کردینے کا وعدہ کیا ہے۔ سردیوں کے چھ ماہ کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام کی مدد سے اکیس ہزار میٹرک ٹن خوراک کا زخیرہ کیا جارہا ہے۔تاکہ جاڑا خیریت سے گذر جائے ۔

اگلے ہفتے سے یہاں بھی متاثرین کے لیے وطن کارڈ کا اجرا شروع ہوجائے گا۔لیکن پورے ضلع میں ایک بھی اے ٹی ایم مشین نہیں ہے۔معلوم نہیں یار لوگ اس وطن کارڈ کو کیسے اور کہاں استعمال کریں گے۔‘

ڈی سی او محمد ایاز سے ملاقات کے بعد میں اور خالد خان شاہ پور ویلی کے سفر پر روانہ ہوئے۔الپوری سے نکلتے ہی پشتو کے معروف شاعر حافظ الپوری کا مزار دکھائی دیا۔سیلاب اس مزار سے چھیڑ چھاڑ کئے بغیر گذر گیا۔راستے میں کئی جگہ مقامی لوگ پن چکیوں کی اپنے طور پر مرمت کرتے نظر آئے۔پہاڑوں پر بادل ٹوٹنے ( کلاؤڈ برسٹ) کے زخم واضح دکھائی دے رہے تھے۔یوں سمجھئے کہ بادل ٹوٹ کر برسنے ( پشتو میں اس کیفیت کو تندر کہتے ہیں) اور آسمانی بجلی کے کوڑے لگنے کے سبب پہاڑوں کے سر سے جگہ جگہ سبزے کی وگ اتر چکی ہے۔کئی جگہ تو پہاڑوں کی لمبی چوڑی سفید سفید مانگ نکل آئی ہے۔کہیں کہیں سیڑھی نما پہاڑی کھیتوں میں مکئی کی فصل دکھائی دے رہی تھی۔خالد خان نے کہا اس منظر سے دھوکا نہ کھائیے ۔فصل کھڑی ہے لیکن اس کے درمیان کی مٹی بہہ گئی ہے۔یوں سمجھیے کہ فصل کو کھڑے کھڑے ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے۔

Image caption ۔داموڑی کے لوگوں نے بتایا کہ اوپر کی طرف پیرخانہ یونین کونسل کے گیارہ گاؤں ایک ماہ بعد بھی باقی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں

کروڑہ قصبے کا پل پار کرکے ہم شاہ پور ویلی میں داخل ہوئے۔اس ویلی میں کل ملا کر ایک سو ایک اموات ہوئیں۔داموڑی میں الپوری تحصیل کے سابق نائب ناظم جاوید خان اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔سامنے خان خوڑ نالے کے دوسری جانب چند سفید خیمے نصب تھے۔

اٹھائیس جولائی سے پہلے یہ سامنے والی جگہ آبشار کالونی کہلاتی تھی۔لیکن اب یہاں نہ آبشار تھی اور نہ کالونی۔ایک سو انتیس گھر پانچ سو فٹ چوڑائی میں دھاڑتا ہوا دس فٹ اونچا پانی جانے کہاں لے گیا۔جاوید خان نے بتایا کہ یہاں ایک مدرسہ ، مسجد، اور اٹھارہ دوکانیں بھی تھیں۔لیکن کہاں تھیں یہ جاوید خان بھی نہ بتا سکے۔کوئی انچ بھر نشان بچتا تو بتاتے۔

اسی پہاڑی نالے کے دوسرے کنارے کے ہلالی کونے پر جہاں ہم لوگ بیٹھے تھے۔ایک ہسپتال کالونی بھی تھی۔اس آبادی کا نام ہسپتال کالونی بنیادی مرکزِ صحت کے سبب پڑ گیا تھا۔لیکن اب یہ کالونی بھی دل میں آباد ہے۔مرکزِ صحت ، انتیس مکانات ، سولہ دوکانیں اور دو سکول قفسِ عنصری سے پرواز کر چکے ہیں۔داموڑی کے لوگوں نے بتایا کہ اوپر کی طرف پیرخانہ یونین کونسل کے گیارہ گاؤں ایک ماہ بعد بھی باقی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔

شاہ پور ویلی سے واپسی پر کروڑہ سے بشام جانے والی راہ پر میں نے عجب منظر دیکھا۔مگر کل بتاؤں گا۔

اسی بارے میں