’لشکر طیبہ، جیش محمد کے خلاف نئی مالی پابندیاں‘

فائل فوٹو، تاج ہوٹل
Image caption سال دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر ہونے والے دہشت گرد حملہ کرنے والے بعض شدت پسندوں نے بھی اعظم چیمہ سے تربیت حاصل کی تھی: اعلامیہ

امریکہ نے پاکستان کی دو کالعدم جہادی تنظیموں لشکر طیبہ، جیش محمد اور اس کی ذیلی تنظیم الرحمت ٹرسٹ کے خلاف نئی مالی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد دونوں شدت پسند تنظیموں کے مالی اور امدادی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا اطلاق کالعدم لشکر طیبہ کے ایک مبینہ کمانڈر اعظم چیمہ، تنظیم کے اہم رہنما حافظ عبدالرحمنٰ مکی، کالعدم جیش محمد کے سربراہ محمد مسعود اظہر کے علاوہ جیش محمد کی ذیلی تنظیم الرحمت ٹرسٹ پر ہوگا۔

اعلامیے کے مطابق الرحمت ٹرسٹ جیش محمد کا آپریشنل فرنٹ ہے جو جیش محمد اور تنظیم کے سربراہ محمد مسعود اظہر کو مدد فراہم کرتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے نئی مالی پابندیوں کا اعلان صدر براک اوباما کے دورہ بھارت سے دو روز پہلے کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ حزانہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے تحت ان افراد اور تنظیموں کے امریکہ میں اگر کوئی اثاثے ہیں تو انہیں منجمد کردیا گیا ہے اور تمام امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی لین دین کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

امریکہ کے دہشت گردی اور مالی انٹیلیجنس کے انڈر سیکرٹری سٹیورٹ لیوی نے کہا کہ ’ لشکر طیبہ اور جیش محمد دونوں نے معصوم شہریوں پر حملوں کی اپنی آمادگی اور صلاحیت ثابت کی ہے اور آج کے اس اقدام سے جس میں اعظم چیمہ کو بھی شامل کیا گیا ہے، ان مہلک تنظیموں کے آپریشنل اور فنانشل نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔‘

امریکی محکمہ خزانہ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جیش محمد کو امریکہ اور اقوام متحدہ نے سال دو ہزار ایک میں غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور سال دو ہزار دو میں جب حکومت پاکستان نے بھی تنظیم پر پابندی لگا دی تو اس نے الرحمت ٹرسٹ کا نام اختیار کر لیا۔

’الرحمت ٹرسٹ افغانستان اور پاکستان میں شدت پسندی کی کارروائیوں کے لیے مدد فراہم کرتی ہے اور ان دونوں ملکوں میں غیرملکی جنگجوؤں کو بھی مالی اور مادی امداد دیتی رہی ہے۔‘

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ الرحمت ٹرسٹ کے کئی اہم افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے رہنما گزشتہ سال دو ہزار نو کے اوائل تک نوجوان طلبہ کو بھرتی کرتے رہے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق الرحمت ٹرسٹ، جیش محمد کی قیادت اور کارکنوں کو جنگجوؤں کی تربیت اور مدرسوں اور مساجد کے اندر نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کے لیے ان کی فکری تربیت کے لیے فنڈز جمع کرتی ہے۔

’سال دو ہزار نو کے اوائل تک الرحمت ٹرسٹ نے شدت پسندی کی کارروائیوں میں مارے یا پکڑے جانے والے جنگجوؤں کے ورثاء کی مالی مدد کے لیے پاکستان کے اندر چندہ مہم شروع کی تھی اور سال دو ہزار سات میں الرحمت ٹرسٹ، خدام الاسلام کے نام سے چندہ جمع کرتی تھی جوکہ اصل میں جیش محمد کا ہی دوسرا نام تھا۔‘

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ جیش محمد طالبان کی بھی مالی مدد کرتی ہے اور ان طالبان کی طبی مدد کے لیے بھی کام کرتی ہے جو افغانستان میں زخمی ہوجاتے ہیں۔

اعظم چیمہ کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے نگرانی اور جاسوسی کے نظام کے سربراہ کے طور پر جانے جاتے ہیں اور تنظیم کی جنگجو تربیت کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ’خاص طور پر لشکر طیبہ کے ارکان کو بم بنانے اور بھارت میں داخل ہونے کی تربیت دینے میں۔‘

اعلامیے کے مطابق بھارت کے شہر ممبئی پر نومبر سال دو ہزار آٹھ میں ہونے والے دہشت گرد حملہ کرنے والے بعض شدت پسندوں نے بھی اعظم چیمہ سے تربیت حاصل کی تھی۔ ’ سال دو ہزار آٹھ میں اعظم چیمہ، لشکر طیبہ کے سینئر رہنما ذکی الرحمن لکھوی کے آپریشنز ایڈوائزر مقرر ہوئے تھے۔‘

لشکر طیبہ کے اہم رہنما حافظ عبدالرحمنٰ مکی کے بارے میں امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ ان کا تنظیم کے لیے مالی امداد حاصل کرنے میں اہم کردار ہے۔’ سال دو ہزار سات کے اوائل میں انہوں نے لشکر طیبہ کے تربیتی کیمپ کو دو لاکھ اڑتالیس ہزار ڈالر اور تنظیم سے ملحقہ ایک مدرسے کے لیے ایک لاکھ پینسٹھ ہزار ڈالر دیے تھے۔‘

اسی بارے میں