آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 نومبر 2010 ,‭ 09:59 GMT 14:59 PST

پشاور کے مضافات میں دھماکے، انسٹھ ہلاک، درجنوں زخمی

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل اور پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر کے گاؤں کی مساجد میں دو دھماکوں میں ستاون افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ درہ آدم خیل کی مسجد میں حکام کے مطابق خود کش حملہ کیا گیا جبکہ بڈھ بیر کی مسجد میں پولیس کے مطابق دستی بموں سے حملہ کیا گیا۔

پہلا دھماکہ دوپہر کو درہ آدم خیل کے شمال میں پشاور کی جانب پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر گاؤں آخوروال کی جامع مسجد میں گیٹ کے پاس اس وقت ہوا جب لوگ نمازِ جمعہ کے بعد مسجد سے نکل رہے تھے۔ دوسرا دھماکہ بڈھ بیر کے گاؤں سلیمان خیل میں ہوا جو پشاور سے سات کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور جس کی سرحدیں درہ آدم خیل سے ملتی ہیں۔ یہاں مسجد میں دستی بم پھینکے گئے جس سے پولیس کے مطابق چار افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے۔

کلِک درہ آدم خیل خود کش حملہ، تصاویر

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دوسرا دھماکہ بڈھ بیر کے گاؤں میں اس وقت ہوا جب لوگ عشا کی نماز کے لیے مسجد میں جمع تھے۔ پولیس اور عام لوگ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق درہ آدم خیل کے واقعہ میں حملہ آور پیدل تھا اور اس نے مسجد کے دروازے کے پاس خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے سے مسجد کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

کشمنر کوہاٹ خالد خان عم زئی نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ اس حملے میں پچپن افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ ابتک پینسٹھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

درہ آدم خیل میں گزشتہ دو تین برسوں سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف فوج کی جانب سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے

انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

خالد خان عم زئی کے مطابق حملہ آور کی عمر سولہ سے سترہ سال کے دوران تھی اور پیدل تھا اور مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس حملے کا ہدف کون تھا تاہم ان کے مطابق ہوسکتا ہے اس مسجد میں سکیورٹی اہلکار ہوں جنھیں نشانہ بنانے کے لیے حملہ کیا گیا ہو۔

دھماکے میں مسجد کی چھت منہدم ہو گئی ہے۔

اس واقعہ کے بعد مسجد کے قریبی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ جائے وقوعہ پہنچ گئے اور انھوں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل بھی درہ آدم خیل میں ایک جرگے پر ہونے والے خودکش حملے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ درہ آدم خیل میں گزشتہ دو تین برسوں سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف فوج کی جانب سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حالیہ کچھ عرصے سے وہاں سکیورٹی فورسز نے بظاہر سارے علاقے کا کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے جس سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی تھی۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔