پھر نئے جوڑ توڑ کی کوششیں

وفاقی دارالحکومت میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے سیاسی سرگرمیاں تیز کردی ہیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نئے سرے سے جوڑ توڑ کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ایک طرف حکمران اتحاد میں واضح اختلافات کی خبریں آ رہی ہیں تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور حکمران پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ق) سے رابطے شروع کردیے ہیں۔

ایسے میں جمعرات کو مسلم لیگ (ق) نے جہاں بند کمرے میں ایک اجلاس منعقد کیا وہاں مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنی پارلیمانی پارٹی کا علیحدہ سے اجلاس منعقد کیا۔ مسلم لیگ (ن) نے اجلاس میں اپنے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بدعنوانی کے معاملات پر حکومت کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائیں۔

اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کو بتایا کہ ججوں کی بھرتی کے بارے میں جو آٹھ رکنی پارلیمانی کمیشن بننا ہے اس میں اپوزیشن کو سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دو دو اراکین نامزد کرنے ہیں اور اس بارے میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے درمیاں اتفاق ہوگیا ہے۔

یہ اتفاق رائے مسلم لیگ (ن) کے سنیٹر اسحٰق ڈار کی میاں نواز شریف کی ہدایت پر گزشتہ شب چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰٰ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ہوا۔

مسلم لیگ (ق) نے بھی اپنے بند کمرے کے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکمران پیپلز پارٹی اور حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) دونوں سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھے گی اور کسی بھی فریق سے ’ڈیل‘ کے بارے میں حتمی فیصلہ بعد میں کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی طے کیا ہے کہ وہ دونوں فریقین میں سے، جس سے بھی معاملات طے کریں گے، ان سے سیاسی تعاون کے بارے میں تحریری گارنٹی لیں گے کہ انہیں کیا ملے گا اور وہ اس کے بدلے میں کیا تعاون کریں گے۔

دریں اثناء حکومتی اتحاد میں اختلافات بھی آئے روز نیا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ متحدہ قومی موؤمنٹ نے بظاہر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پارلیمان اور کابینہ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ تو عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علماء اسلام (ف) بھی حکمران پیپلز پارٹی سے خوش نہیں۔ جس کا برملا اظہار وہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں کر رہے ہیں۔

ایسے میں حکمران پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ق) سے رابطے تیز کردیے ہیں۔ وزیر قانون بابر اعوان نے چند روز میں دو بار چوہدری پرویز الہیٰ سے ملاقات کی ہے۔

حکمران پیپلز پارٹی اور حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) جو کل تک مسلم لیگ (ق) کو سیاسی ’اچھوت‘ سمجھتے رہے آج کل دونوں اس جماعت سے پینگیں بڑھانے کی خواہشمند ہیں۔

باوجود اس کے کہ حکومتی اتحاد میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اس سے فوری طور پر پیپلز پارٹی کی حکومت گرنے یا پارلیمان کے اندر سے کسی تبدیلی کا امکان تو نہیں ہے، لیکن جس طرح سیاسی سرگمیوں میں تیزی آ رہی ہے وہ شاید مستقبل قریب میں نئے سیاسی منظر نامے کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

اسی بارے میں