میت گھر پہنچ گئی، غیرمعمولی سکیورٹی

عمران فاروق فائل فوٹو
Image caption عمران فاروق انیس سو ننانوے سے لندن میں مقیم تھے

لندن میں قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کنوینر ڈاکٹرعمران فاروق کی میت سنیچر کی صبح لندن سے کراچی پہنچ گئی ہے، اِس موقع پرشہر میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب تاجروں نے سنیچر اور اتوار کے روز کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ کو لندن کے علاقے ویسٹ ہینڈن کی مرکزی مسجد میں ڈاکٹر عمران فاروق کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین، ڈاکٹرعمران کے والد فاروق احمد، ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار، سابق ناظم مصطفیٰ کمال، حیدرعباس رضوی اور لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے شرکت کی۔

ڈاکٹر عمران کی میت کے ساتھ اُن کی بیوہ شمائلہ عمران، دونوں بچے، والدین اور ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان پاکستان آئے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں سیکورٹی کے غیر معمولی حفاظتی انتظامات نظر آرہے ہیں۔ اکثر سڑکوں اور چوراہوں پر پولیس اور رینجرز نے عارضی ناکے لگائے ہیں جہاں لوگوں اور گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

اُدھر تاجر ایکشن کمیٹی کے رہنما صدیق میمن نے بتایا کہ سنیچر اور اتوار کو کاروباری مراکز اور مارکیٹیں سوگ میں بند رہیں گی اور تاجر نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کا فیصلہ حالات دیکھ کر کیا جائے گا۔ تاہم ٹرانسپورٹروں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جہاں صورتحال بہتر ہوگی، اُن علاقوں میں گاڑیاں چلائیں جائیں گی۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک بھی کراچی میں ہیں جہاں انہوں نےعمران فاروق کی میت کی آمد اور نمازِ جنازہ کے موقع پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کیا مگر ان کے ساتھ موجود صوبائی وزیرِ داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ نمازِجنازہ کے جلوس میں کسی حملے کی کوئی اطلاعات نہیں مگر حکومت نے اپنے طور پر انتظامات کیے ہیں۔

اسی بارے میں