زبردست سکیورٹی میں عمران فاروق کی تدفین

Image caption شہر میں حفاظتی انتظامات کی وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک خود نگرانی کرتے رہے۔ میت کی وصولی کے وقت بھی وہ گورنر سندھ کے ساتھ موجود تھے

لندن میں قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کی کراچی میں تدفین کردی گئی ہے۔

یاسین آباد قبرستان میں تدفین سے قبل جناح گراؤنڈ میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ایم کیو ایم کی قیادت سمیت کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے طالب علمی کے ساتھی ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان ک وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ڈاکٹر عمران کے جسد خاکی کو لندن سے اس طرح وہ پاکستان لائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’خواہش یہ تھی کہ جس طرح آج لوگوں نے ڈاکٹر عمران کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ہم سب کی یہ خواہش تھی کہ زندگی میں ایسا کوئی دن آتا جب الطاف بھائی وطن واپس آتے اور ڈاکٹر عمران ان کے ساتھ ہوتے وہ اپنی آنکھوں کے ساتھ بھی وہ منظر دیکھتے، مگر جو خدا کو منظور تھا۔‘

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ڈاکٹر عمران کے قاتل ضرور گرفتار ہوں گے اور کیفر کردار تک پہنچے گے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس سے قبل سنیچر کی صبح ڈاکٹر عمران کی میت لندن سے کراچی ایئرپورٹ پہنچی۔ میت کے ساتھ ڈاکٹر عمران کی بیوہ شمائلہ عمران، دو بچےاور والدین بھی کراچی پہنچے۔ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے اپنے دیرینہ ساتھی کی میت وصول کی۔

بعد میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے ساتھ میت کو ڈاکٹر عمران کے گھر شریف آباد پہنچایا گیا، جہاں سے میت کو متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائین زیرو کے قریب واقع جناح گراؤنڈ منتقل کیا گیا جہاں نمازے جنازہ ادا کی گئی۔

شہر میں سنیچر کو تمام کاروباری مراکز، پیٹرول پمپ اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی اور سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ تاجروں نے دو روز تک کاروباری سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

گزشتہ روز سے شہر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، اکثر سڑکوں اور چوراہوں پر پولیس اور رینجرز نے عارضی ناکے لگائے ہیں۔ میت کے جلوس کے راستوں پر پانچ ہزار پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے جبکہ شہر کی فضائی نگرانی بھی کی جا رہی تھی۔

دوسری جانب گزشتہ رات سے سہراب گوٹھ، سرجانی ٹاؤن اور لانڈھی کے علاقوں میں نامعلوم افراد نے تین منی بسوں اور ایک رکشا کو نذر آتش کردیا ہے۔

شہر میں حفاظتی انتظامات کی وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک خود نگرانی کرتے رہے۔ میت کی وصولی کے وقت بھی وہ گورنر سندھ کے ساتھ موجود تھے۔

اسی بارے میں