تینتالیس کمپنیوں کے پاس جہاز اڑانے کا لائسنس

Image caption تیس اداروں کے پاس ایریئل ورک لائسنس ہے اور سترہ فلائنگ سکولز یا تربیتی ادارے ہیں جو نجی طور پر پائلٹ بننے والے خواہشمندوں کو جہاز اڑانے کی تربیت دیتے ہیں

پاکستان میں دیگر کئی شعبوں کی طرح فضائی ہوا بازی کے بھی قابل بھروسہ اعداد و شمار یا تو میّسر نہیں یا متعلقہ حلقے اور ادارے انہیں عوام کے سامنے لانے کو تیار نہیں۔

تاہم کچھ ذرائع نے بی بی سی کے ساتھ جو اعداد و شمار ’شیئر‘ کیے ہیں ان کے مطابق ایئر لائنز یا فضائی اداروں سمیت کل تینتالیس اداروں کے پاس پاکستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی یا سی اے اے کے قواعد و ضوابط کے تحت پرواز کا لائسنس موجود ہے۔

ان اداروں کو جاری کیے جانے والے یہ لائسنس دو مختلف درجات میں جاری ہوئے ہیں جن میں کلاس ون اور کلاس ٹو شامل ہیں۔

تینتالیس میں سے چوبیس اداروں کو چارٹر فلائٹس آپریٹ کرنے یا معاہدے کے تحت نجی طور پر جہاز اڑانے کی اجازت ہے۔

مگر چوبیس میں سے چھ مختلف وجوہات کی بناء پر فعال نہیں۔چھ میں سے کم از کم ایک ادارے کا آپریشن یا سرگرمیاں معطل ہیں اور اگر ان چھ غیر فعال اداروں کو شمار نہ کیا جائے تو کل اٹھارہ مختلف ادارے کام کررہے ہیں۔

تیس اداروں کے پاس ایریئل ورک لائسنس ہے اور سترہ فلائنگ سکولز یا تربیتی ادارے ہیں جو نجی طور پر پائلٹ بننے والے خواہشمندوں کو جہاز اڑانے کی تربیت دیتے ہیں۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن یعنی پی آئی اے یا قومی فضائی ادارے کی طرح تجارتی بنیادوں پر قائم مختلف فضائی اداروں میں شاہین ایئر، ایئر بلیو، غیر فعال بھوجا ایئر، معطل شدہ ایرو ایشیاء سمیت کئی اور فضائی اداروں کے پاس بوئنگ سیون فور سیون، بوئنگ ٹرپل سیون، بوئنگ سیون تھری سیون، اے ٹی آر، ایئربس تھری ٹونٹی، ایئر بس تھری ٹونٹی ون، نوعیت کے کئی کئی جہازوں کے بڑے بیڑے موجود ہیں۔

مگر جمعہ کو کراچی کے قریب گرکر تباہ ہونے والے ایک نجی ادارے کے پاس سی اس نوعیت کے تین جہاز تھے، جن میں سے ایک گر کر تباہ ہوگیا، اور اب دو رہ گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ جس طرح کہا جاسکتا ہے کہ پی آئی اے جیسے ادارے کے پاس بڑے جہازوں پر مبنی بیڑے میں کم و بیش اکتالیس جہاز ہیں اسی طرح نجی اداروں کے پاس ایک اندازے کے مطابق جہازوں کی تعداد قریباً نوے ہے۔

اسی بارے میں