سکولوں پرحملے طالبان کی نئی حکمت عملی؟

Image caption باجوڑ ایجنسی میں اب تک سو کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کیا جاچکا ہے: سرکاری اعداد و شمار

پاکستان کے قبائلی علاقوں مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں مسلح طالبان کی طرف سے حالیہ دنوں میں سرکاری سکولوں پر حملوں میں جو تیزی آئی ہے اس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے شدت پسندوں کی طاقت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے بلکہ وہ پہلے سے مضبوط اور منظم حکمت عملی کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔

ویسے تو مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں گزشتہ کئی سالوں سے سکولوں پر حملے جاری ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ان واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان حملوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ چند دنوں کے دوران فاٹا کے دونوں علاقوں میں ایک ہی رات میں تین تین سرکاری سکولوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مہمند اور باجوڑ سمیت ملک کے زیادہ تر قبائلی ایجنسیوں میں پچھلے کئی سالوں سے سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم ابھی تک کسی بھی علاقے کو مکمل طورپر صاف نہیں کیا جاسکا ہے۔ کچھ علاقوں میں تو سکیورٹی فورسز نے دو اور تین مرتبہ آپریشن کرچکی ہے اور اس دوران متعدد دعوے بھی سامنے آئے کہ یہ علاقے عسکریت پسندوں سے صاف کرادیے گئے ہیں۔ اور تو اور باجوڑ ایجنسی میں تو حکومت دو مرتبہ طالبان پر فتح حاصل کرنے کے شادیانے بھی بچا چکی ہے لیکن بظاہر ان’ فرینڈلی‘ آپریشنوں سے عسکریت پسندوں کی طاقت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔

حال ہی میں ہونے والے حملوں سے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے شدت پسند پھر سے منظم ہونے کے بعد ایک نئی حکمت عملی سے سامنے آرہے ہیں۔ موجودہ حالات میں اگر ان کی طاقت کم بھی ہوچکی ہو تب بھی وہ سکولوں پر حملے کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ اس سے نہ صرف یہ کہ ان کی طاقت ثابت ہورہی ہے بلکہ وہ کسی حد تک اپنے اس مقصد میں بھی کامیاب ہوتے نظر آرہے جو انکی ایک دیرینہ خواہش ہے یعنی سکول بند ہونے کی صورت میں اکثر طلباء مدرسوں کی طرف ہی جائیں گے جہاں وہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پچھلے چار پانچ سال سے درہ آدم خیل سے لے کر باجوڑ تک سکولوں پر بغیر کسی رکاوٹ کے حملے جاری ہیں لیکن تاحال حکومت کی طرف سے اسکی روک تھام کے حوالے سے کوئی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے ہیں۔

ان کے مطابق سکیورٹی فورسز پر حملوں کی صورت میں پھر بھی جوابی کاروائی کا امکان تو موجود رہتا ہے لیکن سکولوں کی تو کوئی سکیورٹی نہیں ہے لہذا ایک شدت پسند بھی جاکر سکول کو باآسانی نشانہ بناسکتا ہے۔

خود طالبان بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ سے انہوں نے ایک حکمت عملی کے تحت سکولوں پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے ۔

مہمند ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے ترجمان سجاد مہمند کا کہنا ہے کہ وہ سکولوں پر اس لیے حملے کررہے ہیں کیونکہ بقول ان کے اس میں مبینہ طورپر ’ انگریزی تعلیم‘ دی جارہی ہے۔

ان سے جب بار بار یہ سوال پوچھا گیا کہ ان حملوں کی صورت میں خود ان کے یعنی مہمند ایجنسی کے بچے ہی تعلیم کے زیور سے محروم ہورہے ہیں تو اس کا ترجمان کوئی واضح جواب نہیں دے سکے۔

ان کے بقول ’ طلباء سکول کی بجائے مدرسہ کیوں نہیں پڑھتے وہاں بھی وہ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں`۔

سجاد مہمند سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ جو طلباء سکول پر حملوں کی صورت میں تعلیم سے محروم ہورہے ہیں تو کیا طالبان نے ان کےلیے کوئی متبادل انتظام کیا ہوا ہے تو ترجمان اس کا بھی کوئی قابل ذکر جواب نہیں دے سکے ۔

تاہم دوسری طرف بعض مقامی لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مہمند ایجنسی میں زیادہ تر سکول مقامی قبائلی ما لکان اور مشران کے ناموں پر رجسٹرڈ ہیں اور شدت پسند اس وجہ سے بھی ان کو نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قبائلی عمائدین حکومت سے درپردہ ملے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں