سیکریٹری دفاع کے وارنٹ جاری

سندھ ہائی کورٹ نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالغفار لانگو کی گمشدگی کے مقدمے میں سیکریٹری دفاع کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے ہیں۔

سیکریٹری دفاع پیر کوجسٹس گلزار احمد اور جسٹس امام بخش بلوچ پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔ گزشتہ سماعت کے موقع پر عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ سیکریٹری دفاع خود پیش ہوں یا حلف نامہ جمع کرائیں کہ عبدالغفار لانگو ان کی زیر حراست ہیں یا نہیں۔

اس سے قبل عدالت میں وفاقی سیکریٹری داخلہ نے پیش ہوکر بیان دیا تھا کہ ان کے ماتحت صرف ایف آئی اے، اسلام آباد پولیس اور رینجرز ہیں، جبکہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس سیکریٹری دفاع کے ماتحت آتے ہیں، جس پر عدالت نے سیکریٹری دفاع کو طلب کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے۔ اس کیس کی سماعت اب انتیس نومبر کو ہوگی۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عبدالغفار لانگو بارہ دسمبر دو ہزار نو کو کراچی کے علاقے گارڈن سے لاپتہ ہوگئے تھے، ان کے رشتے دار نیاز محمد لانگو نے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ غفار لانگو کو حساس اداروں نے اس وقت اپنی تحویل میں لے لیا، جب وہ اپنی بیوی کی عیادت کے لیے کراچی آئے تھے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو جئے سندھ قومی محاذ کے رہنما آکاش ملاح کی گمشدگی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

حیدرآباد کے ضلعی پولیس افسر منیر شیخ نے عدالت کو بتایا کہ وہ عدالت کے حکم کی تعمیل کے لیے آئی ایس آئی کے دفتر میں داخل نہیں ہونا چاہتے تھے لیکن انھیں دفتر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ جس پر عدالت نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او کو ہدایت کی کہ وہ اپنے حلفیہ بیان جمع کرائیں، اس موقعہ پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فتح کو اس بارے میں دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔

یاد رہے کہ عدالت نے گزشتہ سماعت کے موقعہ پر آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو طلب کرنے کے لیے نوٹیس جاری کیے تھے۔

سندھ قومی محاذ کے آکاش ملاح اپنے ساتھی نور محمد خاصخیلی کے ہمراہ حیدرآباد کے علاقے بھٹائی ٹاؤن سے تیس اکتوبر کو لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کے بھائی انور ملاح نے اس بارے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو درخواست بھیجی تھی جسے آئینی درخواست میں تبدیل کیا گیا۔

اس سے قبل دو ہزار چھ میں بھی آکاش ملاح لاپتہ ہوگئے تھے اور اٹھارہ ماہ کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔