وزیر پر فوجی نے بندوق تانی

نثار علی خان
Image caption یہ اقدام جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے: نثار علی

وفاقی حکومت نے پیر کو ایک وفاقی وزیر پر فوجیوں کی جانب سے بندوق تاننے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وفاقی وزیر پر فوجی اہلکاروں کی جانب سے بندو تاننے کا معاملہ قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چوہدری نثار علی خان نے اٹھایا اور کہا کہ یہ پارلیمان کی توہین ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کہا کہنا ہے کہ پیر کی دوپہر کو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملنے آئے تھے اور اس موقع پر سیکورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے تھے۔

چوہدری نثار علی نے متعلقہ وزیر کا نام تو نہیں بتایا لیکن کہا کہ ایوان صدر کے کے قریب شاہراہ دستور پر ایک وفاقی وزیر جب پرچم والی گاڑی میں وزیراعظم ہاؤس کی طرف جانے لگے تو فوجی اہلکاروں نے انہیں روک لیا اور جب وزیر نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو فوجی اہلکاروں نے ان پر بندوقیں تان لیں۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر کیسے سیکورٹی رسک ہو سکتا ہے اور فوج کو کس نے حق دیا ہے کہ کسی کو سڑک پر روک سکے؟ انہوں نے کہا کہ مارشل لاء کے دور میں بھی ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہونا ہے تو پھر پارلیمان کی ضرورت نہیں اور اُسے سمیٹنا چاہیے۔ کیونکہ یہ اقدام جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

جس پر وفاقی وزیر پیٹرولیم سید نوید قمر نے کہا کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ جمہوری حکومت ہے اس میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کی جانچ کروائیں گے اور کارروائی کریں گے۔

جب یہ معاملہ زیر بحث آیا تو کارروائی ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی چلا رہے تھے اور انہوں نے کہا کہ اس سے پارلیمان کا وقار مجروح ہوا ہے اور حکومت اس بارے میں رواں سیشن میں جانچ کرکے رپورٹ پیش کرے۔

اسی بارے میں