چیف جسٹس کے اختیارات پر تحفظات

پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نومنتخب صدر عاصمہ جہانگیر نے جوڈیشل کمیشن کے قواعد و ضوابط میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی نامزدگی کا اختیار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو دینے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی نامزدگی بھی جوڈیشل کمیشن کی مشاورت سے ہونی چاہیے۔

کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار کے دورے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی نامزدگی کا اختیار چیف جسٹس کو دینے سے نظام میں بہتری نہیں آسکے گی، عوام کو چیف جسٹس پر اعتماد اور احترام ہے مگر مستقبل میں کوئی اور بھی چیف جسٹس بن سکتا ہے اس لیے اصول بننا چاہیے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججوں کی نامزدگی کا اختیار چیف جسٹس کو دینے پر وفاقی وزیر برائے وزارت قانون بابر اعوان معلوم نہیں کس مصحلت کے تحت خاموش رہے مگر وہ ججوں کی تعیناتی کے معاملے پر کسی مصحلت کا شکار نہیں ہوں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی کارکردگی پر نظر رکھنا اور ان کے غلط فیصلوں کی نشاندہی کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہے اور اگر بار عدلیہ کے غلط فیصلوں کی نشاندہی نہیں کرے گی تو عدلیہ اور انصاف کے نظام میں بہتری نہیں آسکے گی۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ جہاں عدلیہ اور بار میں تعاون کی ضرورت ہوگی وہاں تعاون کیا جائےگا مگر بار اور بینچ میں کچھ فاصلہ بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بار کو غیر جانبدار اور آزاد ادارہ بنانا چاہتی ہیں اور ان کی آزادی تک لوگ ان کا احترام نہیں کریں گے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں شامل کسی ممبر کے رشتے دار کے جج بننے پر پابندی ہونے چاہیے جس کے بعد اقربا پروری کا تاثر ختم ہوجائےگا۔

نئی جوڈیشل پالیسی کے تحت ماتحت عدالت پر مقدمات نمٹانے کے لیے دباؤ بڑہ رہا ہے مگر صرف مقدمات نمٹنانے کو انصاف نہیں کہا جاسکتا۔ نئی جوڈیشل پالیسی کی وجہ سے ماتحت عدالت کے ججز بھی پریشان ہیں اور وکیل بھی جس کی وجہ سےجوڈیشل پالیسی پر بھی نظر ثانی ہونی چاہیے۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم سے قبل اعلیٰ عدلیہ میں ایڈہاک ججوں کو مستقل کرنے کے بارے میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بار میں ان ایڈھاک ججوں کو سٹے آرڈر جج کے نام سے پکارا جاتا ہے، جو کسی جج کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایڈھاک ججوں میں سے کئی اچھے جج ہیں مگر ان کے بارے میں سٹے آرڈر زیادہ طویل نہیں ہونا چاہیے۔ ججوں کی مستقل کرنے کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہیے جس میں ان کی اہلیت اور تعلقات کو بھی مد نظر رکھا جائے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ججوں کی تعیناتی کے بارے میں الجھاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے میں دی گئی گائیڈ لائین کی خود ہی خلاف ورزی کی ہے، اس فیصلے میں سینارٹی کے بارے میں واضح تحریر ہے۔

اسی بارے میں