بلوچوں کی گمشدگی پر تشویش

انسانی حقوق کی دو اہم بین الاقوامی تنظیموں نے بلوچستان میں سینکڑوں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات اور ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گمشدہ افراد کو ظاہر کرے اور تشدد اور ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کرائے۔

بلوچوں کی مبینہ طور پر سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھوں گمشدگیوں، تشدد اور ہلاکتوں کے مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے کے لئے جنیوا میں ہونے والی ایک کانفرنس میں انسانی حقوق کی دو بڑی تنظیموں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوالنٹئری ڈس اپیئرنسز کے نمائیندگان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے لاپتہ افراد کے سربراہ جیریمی سارکن نے کانفرنس میں اپنا پیغام بھیجا۔

ان تنظیموں نے بلوچ کارکنوں کی گمشدگیوں اور ان میں سے کئی کی تشدد شدہ لاشیں ملنے کے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ حکومت پاکستان ان واقعات کو رکوانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

بلوچ سیاسی تنظیمیں ان ہلاکتوں اور گمشدگیوں کا الزام پاکستان کے فوجی خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی پر عائد کرتی رہی ہیں۔ تاہم حکومت ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پروز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا تھا جس کے دوران بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی بھی مارے گئے تھے۔

ان کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں سرکاری اہداف، سرکاری اہلکاروں اور بعض عام شہریوں کے خلاف حملوں میں مزید اضافہ ہوگیا جس کی ذمہ داری بلوچستان کی علیحدگی کی حامی چند مسلح تنظیمیں قبول کرتی رہتی ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ہی بلوچ کارکنوں کی گمشدگیوں اور ان کی ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا کہ صرف پچھلے چار ماہ میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں لاپتہ ہوگئے ہیں۔

جنیوا کانفرنس میں شریک ایک اور تنظیم ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوالنٹری ڈس اپیئرنسز نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں کارروائی کے دوران لگ بھگ آٹھ ہزار لوگوں کو سرکاری اداروں نے غائب کردیا ہے۔

فیڈریشن کے مطابق عام شہریوں کی ہلاکتوں کے لیے بلوچ قوم پرست تنظیمیں بھی موردالزام ہیں، لیکن سب سے زیادہ ہلاکتوں، تشدد اور گمشدگیوں کے ذمہ دار پاکستانی ادارے ہیں۔ فیڈریشن نے الزام لگایا کہ پاکستانی ریاست نے ’مارو اور پھینک دو‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس کے تحت لوگوں کو اغوا کیا جاتا ہے جس کے بعد ان کی تشدد شدہ لاشیں ویرانوں سے ملتی ہیں۔

اس کانفرنس کا انعقاد انٹرنیشنل وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے زیر اہتمام کیا گیا تھا جس کے سرکردہ آرگنائر احمرمستی خان کے مطابق ان کی تنظیم نے گیارہ سو لاپتہ افراد کی تفصیلات جمع کی ہیں جبکہ ایسے سینکڑوں مزید لوگ ہیں جن کے بارے میں معلومات نہیں مل سکیں۔

یہ کانفرنس ایک ایسے موقع پر رکھی گئی ہے جب لاپتہ افراد سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی تیسویں سالگرہ کی تقریبات ہورہی ہیں۔

مستی خان کے مطابق جنیوا انسانی حقوق کا دارالحکومت ہے اور یہاں بلوچوں کی گمشدگیوں سے متعلق کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ آئی سی آر سی اور دیگر بین الاقوامی ادارے بلوچوں کی حالت پر توجہ دیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی تھی کہ ریاستی ادارے ان ہلاکتوں یا گمشدگیوں کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکار شدت پسندوں کے حملوں کے جواب میں دفاعی کارروائی کرتے ہیں اور ان میں ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی پاکستان میں شہریوں کی گمشدگیوں کا معاملہ اٹھایا تھا جس کے بعد حکومتی اداروں نے بعض لوگوں کو ظاہر کیا تاہم اب بھی ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں اور حکومتی اداروں کا عدالت میں یہ موقف ہوتا ہے کہ یہ لوگ ان کی تحویل میں نہیں۔

کانفرنس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی پاکستان اور افغانستان کے لیے کمپینر مایا پستاکیا اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوالنٹیئری ڈس اپیئرنسز کی سیکریٹری جنرل میری ایلین بکالسو کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور جنیوا سے متعدد بلوچ کارکنوں اور انسانی حقوق کے نمائندگان نے شرکت کی۔