وفاقی کابینہ، فلڈ ٹیکس اور اصلاح شدہ جی ایس ٹی کی منظوری

وفاقی کابینہ نے بدھ کو فلڈ ریلیف ٹیکس اور اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

یہ بات اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نےوفاقی وزیر برائے خزانہ حفیظ شیخ اور وزیر داخلہ رحمان ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں میڈیا کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔

اس اجلاس میں کابینہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے بارے میں امریکہ کی حمایت پر شدید تشویش اور سخت مایوسی کا اظہار کیا۔

چینی کا بحران بار بار کیوں؟

چینی کا بحران بار بار کیوں؟ آڈیو

کیا فرق پڑے گا، عابد سلیری سے انٹرویو: آڈیو

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق قمر زمان قائرہ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے مسودے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے بارے میں بجٹ میں اعلان کیا گیا تھا اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کا اطلاق کیا جائے۔

’اصلاح شدہ جنرل سیلز ٹیکس بجٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے نفاذ میں اس لیے تاخیر ہوئی کہ تمام صوبوں کا اتفاق رائے ہو۔‘

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ایک بار سیلاب کی امداد سرچارج اور خاص ایکسائز ڈیوٹی کو بڑھانے کی بھی منظوری دی ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ فلڈ ریلیف سرچارج اور درآمدات اور مقامی مصنوعات پر خاص ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے سے حکومت کو بیالیس ارب روپے کی آمدن ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ فلڈ ریلیف سرچارج ٹیکس دہندگان پر لاگو ہو گا۔ ’جتنی رقم انکم ٹیکس کے زمرے میں دی جا رہی ہے اس رقم کا دس فیصد سرچارج کے زمرے میں اضافی دیا جائے گا۔‘

خاص ایکسائز ڈیوٹی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کی شرح ایک فیصد سے دو فیصد کی جا رہی ہے۔ اس ڈیوٹی کی مد میں حکومت کو گیارہ ارب روپے کی آمدن ہو گی۔

انہوں نے مذید کہا کہ اس ڈیوٹی کا اطلاق پارلیمان سے منظوری کے بعد فوری طور پر کیا جائے گا۔

امریکہ کی بھارت کی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کی حامیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت ایشیا خاص طور پر جنوبی ایشیا میں کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نے چینی کے بحران کے بارے میں کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے اس بارے میں متعلقہ حکام سے تفصیلی بریفنگ کے بعد اس بحران کے خاتمے کے لیے چار نکاتی حکمت عملی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے جس میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے پاس موجود چینی کو مارکیٹ میں لانا اور بیرون ملک سے چینی کی فوری درآمد شامل ہے۔

وزیراطلاعات نے بتایا کہ چینی کے مل مالکان کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر چینی بنانے کے اپنے کارخانے چلائیں تا کہ ملک میں چینی کی دستیابی مزید بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اس بحران کے ذمہ دار چینی کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور خفیہ ایجنسیوں کو ذخیرہ کی گئی چینی کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کا کام سونپا گیا ہے جس کے بنیاد پر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑا آپریش شروع کیا جائے گا۔

اسی بارے میں