’ اراکین اسمبلی کےلیے خصوصی تحائف‘

فائل فوٹو، قومی اسمبلی
Image caption سپیکر کے تحائف کے بارے میں پریس گیلری میں مختلف چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کو سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے ایوان کے تمام یعنی تین سو بیالیس اراکین کو خصوصی تحائف پیش کیے ہیں۔

تحائف پیش کرنے پر مسلم لیگ (ق) کی رکن مارروی میمن نے اعتراض کرتے ہوئے تحفہ قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ تحائف پر خرچ ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کو دینی چاہیے تھی، اس لیے وہ بطور احتجاج یہ تحفہ واپس کرتی ہیں۔

جس پر ان کے بعض ساتھی اراکین جن کا تعلق مسلم لیگ(ن) مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ سے تھا انہوں نے ماروی میمن پر تنقید کی اور کہا کہ ہر بات کو منفی انداز میں نہیں لینا چاہیے۔ ان کے بقول تحفہ دینا سنت ہے اور سپیکر نے اچھا قدم اٹھایا ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ماروی میمن کی بات سن کر سپیکر کو ایک لمحے کے لیے جھٹکا تو لگا لیکن حزب مخالف کی جانب سے ان کے دفاع کے بعد وہ سنبھلیں اور ماروی میمن سے کہا کہ دیکھیں جس کو جمہوریت کی قدر معلوم ہے وہ اس اقدام کو سراہتے ہیں۔

جنہیں ماروی میمن کے سیاسی ’بیک گراؤنڈ‘ کا علم تھا ان کی نظر میں تو یہ ماروی کے لیے ایک بڑا طعنہ تھا۔ کیونکہ ماروی میمن سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی دریافت تھیں۔ ماروی میمن کے والد نثار میمن پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر اطلاعات تھے اور ان ہی دنوں میں پہلی بار انہیں فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے یعنی ’آئی ایس پی آر‘ میں ملازمت ملی تھی۔

ماروی میمن کا تعلق تو صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ سے ہے لیکن اس کے باوجود بھی پرویز مشرف نے انہیں پنجاب سے مسلم لیگ (ق) کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی بنوایا تھا۔خیر ماروی نے پھر بھی اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کی کوشش کی لیکن ان کا مائیک نہیں کھلا۔

مختلف اراکین اپنے تحائف کھول کر دیکھتے رہے تو صحافیوں کا تجسس بھی بڑھتا رہا کہ آخر تحفہ ہے کیا۔

سپیکر کے تحائف کے بارے میں پریس گیلری میں مختلف چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں اور کوئی کہہ رہا تھا کہ یہ گھڑی کا تحفہ ہے تو کوئی کہہ رہا تھا کہ قلم ہے۔ لیکن اجلاس ختم ہونے کے بعد جب بعض اراکین کے وہ تحائف دیکھے تو وہ ایک شیلڈ تھی جس پر قومی اسمبلی کا نیا ’لوگو‘ تھا اور لکھا تھا ’ جمہوریت، حاکمیت اور مساوات۔‘

جمعرات کو قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) نے پیٹرولیم مصنوعات سمیت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کے حلاف سخت احتجاج کیا۔ ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے انہیں بتایا کہ مہنگائی پر بحث ایجنڈے میں شامل ہے اور وہ چاہیں تو اس پر بحث شروع کریں۔

انہوں نے بحث شروع کرنے کے لیے مسلم لیگ(ن) کو دعوت بھی دی لیکن کسی نے بھی با ضابطہ بحث شروع نہیں کی اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ہم آواز ہوتے ہوئے نعرہ بازی کی کہ ’پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ نا منظور‘۔ وفاقی وزیر خورشید شاہ نے مسلم لیگ (ن) والوں سے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ لوگ ’پوائنٹ سکورنگ‘ کر رہے ہیں اور مہنگائی کے خلاف بحث میں سنجیدہ نہیں۔

مسلم لیگ والے شور شرابہ کرتے رہے اور اس دوران حکومت نے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل منظور کر لیا اور ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کی کارروائی جمعہ کی صبح تک ملتوی کردی۔ اس دوران اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان بھی موجود رہے اور انہیں اچانک اجلاس ملتوی کرنے پر بظاہر غصہ تھا۔ تمام جماعتوں کے اراکین چلے گئے لیکن چوہدری نثار علی خان اپنے اراکین کے ساتھ کافی دیر تک ایوان میں مشاروت کرتے رہے۔

ُُُادھر ایوان بالا یا سینیٹ کا اجلاس بھی جاری رہا جہاں حکمران پیپلز پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کے اراکین نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر برس پڑے۔ جس پر ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی نے کہا کہ حکومت امن و امان کے متعلق بریفنگ کا اہتمام کرے اور آئی جی پولیس کو بلایا جائے۔

اسی بارے میں