’بڑی محنت سے بنایا تھا بڑی آسانی سے توڑ دیا‘

کراچی میں سی آئی ڈی سینٹر کے سامنے واقعے مدینہ کالونی کے اسّی فیصد گھر دھماکے کی شدت سے بری طرح متاثر ہوئے اور کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ غریب طبقے کے ان لوگوں نے سیمنٹ کی چادروں اور سگنل دیواروں سے یہ گھر کئی سالوں کی محنت مشقت سے بنائے تھے جو دھماکے کی شدت برداشت نہیں کرسکے۔

ڈیڑھ سالہ طلحہ ابھی تک خوفزدہ ہے۔ اس کی ماں اس کو پنکھا جھل رہی ہے تاکہ وہ سو سکے مگر کل رات سے لے کر اب تک ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔

وہ بتاتی ہیں کہ کہ آٹھ بجے کا وقت تھا وہ کمرے میں ٹی وی دیکھ رہی تھیں اور طلحہ اپنے چچا کے ساتھ باہر گیا ہوا تھا۔ اچانک فائرنگ ہوئی اور وہ طلحہ کی تلاش میں باہر نکلیں اور ان کے پیچھے ان کا شوہر بھی باہر آگئے۔

معصوم طلحہ کا خوف: ویڈیو

’اچانک دھماکہ ہوا اور میں روڈ کی طرف گئی مگر کچھ نظر نہیں آیا۔ میں رو رو کر اسے ڈھونڈتی رہی۔ مجھے یہ سی آئی ڈی سینٹر کے قریب سے ملا۔ اس وقت سے لے کر یہ سہما ہوا ہے اور نہ کچھ بولتا ہے اور نہ کچھ کھاتا ہے۔‘

طلحہ کے والد شہزاد بتاتے ہیں کہ وہ جیسے باہر پہنچے ہیں تو دھماکہ ہوا اور وہ وہاں ہی گر گئے۔ اپنی زخمی ٹانگ دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں ایک چھرا لگا اور ان کو اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ان کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ ان کا چھوٹا بھائی جو قریب ہی موجود تھے شدید زخمی ہوئے اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت وارڈ میں میں زیر علاج ہیں۔ شہزاد نے بتایا کہ اس کے علاوہ گھر میں موجود بہن کو پیٹھ پر چوٹیں آئی ہیں۔

شہزاد مزدوری کرتے ہیں اور ان کا تین کمروں پر مشتمل گھر زلزلے میں ہونے والی تباھی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے اپنے بکھرے ہوئے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’بڑی محنت سے بنایا تھا بڑی آسانی سے توڑ دیا۔‘

متاثرین میں سابق کونسلر مسماۃ نجیب بھی شامل ہیں جن کا تین منزلہ گھر بھی گر گیا ہے۔ ’میرے ایک بھائی کو گولی لگی، ماں ہپستال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑی ہے۔ اس کے علاوہ خالہ، بہن اور چھوٹا بھانجا بھی زخمی ہیں۔‘

مسماۃ نجیب بتاتی ہیں کہ پورا محلہ پریشانی کے عالم میں ہے مگر یہاں کوئی نہیں آیا اور محلے والے خود ہی ملبہ صاف کر رہے ہیں۔

سرکاری ٹیچر طاہر شفیق کی شادی کو ابھی دو سال کا عرصہ بھی نہیں ہوا۔ ’جیسے ہی دھماکہ ہوا تو سیمنٹ کی چادروں سے بنی ہوئی چھتیں نیچے آگریں اور چار کمروں میں موجود سامان اور فرنیچر تباہ اور برباد ہوگیا ہے۔‘

طاہر شفیق کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ پچاس سالوں سے یہاں رہ رہیں ہیں اور اس علاقے کو محفوط سمجھتے تھے۔ ’بڑی پرسکون جگہ ہے نہ پانی جاتا تھا اور نہ ہی گیس یا بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ یہ ظلم تو پہلی مرتبہ ہوا ہے۔‘

دھماکے کے بعد علاقے میں پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ ان متاثرہ لوگوں نے رات کھلے آسمان تلے گذاری کیونکہ کئی مکانات کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔

مزدور اور چھوٹے ملازمت پیشہ ان متاثرین کا پورا دن سامان نکالنے اور ملبہ ہٹانے میں ہی گذر گیا اور یہ مشقت انہیں اب کئی روز تک کرنی پڑے گی۔

سی آئی ڈی سینٹر کی عمارت دن کی روشنی میں تباھی کا واضح منظر پیش کر رہی ہے۔ ڈمپر کی مدد سے ملبے ہٹانے کا کام جاری رہا جبکہ کئی تفتیشی ادارے اپنے اپنے طور پر آکر شواہد اکٹھے کرتے رہے۔

دھماکے سے پولیس کی رہائشی کالونی کے ایک کوارٹر کی دیوار بھی گر گئی جس کے نیچے دب کر گیارہ سالہ رمشا فوت ہوگئی۔

غم میں نڈھال رمشا کے والد اسلم کے پاس بات کرنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ ’میرے چار بچے اور بیوی بھی ہپستال میں ہیں۔ جانے ان کا کیا ہوگا۔‘

اسی بارے میں